خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 501 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 501

خطبات مسرور جلد دہم 501 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء آپ نے صحابہ کو مکہ کی طرف کسی جگہ خبر رسانی کے لئے بھجوایا۔جب یہ حرم کی حدود میں پہنچے تو وہاں ان کو کچھ آدمی مل گئے جو ان کو جانتے تھے یا ان کو شک ہوا کہ یہ لوگ مکہ والوں کو جا کر خبر کر دیں گے۔چنانچہ اس بنا پر اُن صحابہ نے اُن پر حملہ کر دیا اور اُن میں سے ایک کو قتل کر دیا۔جب یہ صحابہ مدینہ واپس پہنچے تو پیچھے پیچھے مکہ والوں کی طرف سے بھی ایک وفد شکایت لے کر آ گیا کہ اس طرح حرم کی حدود میں انہوں نے قتل کیا ہے۔اُن کو جواب دیا جا سکتا تھا کہ تم نے جو مسلمانوں پر اتنے ظلم کئے ہیں اور حرم کی حدود میں بھی جرم کئے ہیں وہ بھول گئے ہو؟ لیکن آپ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے، شاید ان لوگوں نے ان صحابہ کا اس وجہ سے مقابلہ نہ کیا ہو کہ حرم میں پناہ لے لیں گے اور ان کی جان محفوظ ہو جائے گی۔ہمارے آدمیوں سے زیادتی ہوئی ہے۔اور آپ نے ان کو فرمایا کہ ٹھیک ہے تمہیں اس کا خون بہا دیا جائے گا۔چنانچہ عرب کے رواج کے مطابق اُن کا خون بہا ادا کیا گیا۔صل الله عليه (ماخوذاز السيرة الحلبيه جلد 3 صفحه 217 تا 221 باب سراياه و بعوثه، سرية عبد الله بن جحش رضى الله عنه۔۔۔دار الكتب العلميه بيروت (2002ء) پس یہ وہ انصاف کے معیار تھے جو مُنصف اعظم نے ہر جگہ قائم فرمائے۔دوسروں کے جذبات کے احترام کی بھی انتہا دیکھیں۔ایک یہودی آپ کے پاس شکایت کرتا ہے کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے میرا دل دکھایا ہے اور کہا ہے کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت موسیٰ سے افضل بنایا ہے۔اس بات کو سن کر یہودی نے کہا مجھے تکلیف پہنچی ہے۔اب یہ حقیقت بھی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں۔قرآنِ کریم اس کی گواہی دیتا ہے۔لیکن آپ نے حضرت ابوبکر کو بلا کر جب پوچھا اور انہوں نے بتایا کہ ابتدا اس شخص نے کی تھی اور کہا تھا کہ میں موسیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں جس کو خدا نے تمام دنیا پر فضیلت دی ہے۔تو آپ نے فرمایا کہ پھر بھی ایسا نہیں کرنا چاہئے۔دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا چاہئے۔(ماخوذ از شرح العلامة الزرقاني على المواهب اللدنية جزء 8 صفحه 287-288 النوع الأول في ذکر آیات۔۔۔مطبوعه دار الكتب العلمية بيروت 1996ء) پس یہ تھا دوسروں کے جذبات کا احترام۔بنی نوع انسان کی خدمت کرنے والوں کا کس طرح آپ احترام فرماتے تھے، روایات میں آتا ہے جب طئی قبیلے کے لوگوں نے مسلمانوں سے لڑائی کی اور ان میں سے کچھ لوگ گرفتار ہوئے تو اُن میں