خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 502
خطبات مسرور جلد دہم 502 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء حاتم جو مشہور سخی عرب گزرا ہے اُس کی بیٹی بھی تھی۔آپ کو جب علم ہوا تو اس سے حسن معاملہ کیا اور اس کی سفارش پر اُس کی قوم کی سزاؤں کو بھی معاف کر دیا۔پس یہ تھا محسن انسانیت کا انسانیت کی خدمت کرنے والوں کے ساتھ عزت واحترام کا سلوک۔آپ نے عورتوں کی عزت و احترام کس طرح قائم فرمائی ؟ عرب اپنے رواج کے مطابق عورتوں کو مار پیٹ دیا کرتے تھے، آپ کو پتہ چلا تو آپ نے فرمایا۔عورتیں خدا کی لونڈیاں ہیں ، تمہاری لونڈیاں نہیں۔(سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب فی الضرب النساء حديث (2145) ایک صحابی نے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ بیویوں کے ہم پر کیا حق ہیں؟ تو آپ نے فرمایا جو خدا تمہیں کھانے کے لئے دے اُسے کھلاؤ اور جو تمہیں پہننے کے لئے دے،اُسے پہناؤ۔اور اُس کو تھپڑ نہ مارو اور اُسے گالیاں نہ دو اور اُسے گھر سے نہ نکالو۔(ماخوذ از سنن ابی داؤد كتاب النكاح باب فى حق المرأة على زوجها حديث 2142) آجکل بھی اس طرح کے واقعات ہوتے ہیں بعض شکایتیں آتی ہیں ، ایسے لوگوں کو غور کرنا چاہئے۔ایک طرف تو اللہ تعالیٰ سے دعائیں مانگتے ہیں۔دوسری طرف ان حکموں کی خلاف ورزی بھی کر رہے ہیں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ حسن سلوک میں سب سے بہتر ہے۔اور میں تم سب سے بڑھ کر یہ حسن سلوک کرنے والا ہوں۔(سنن الترمذی کتاب المناقب باب فضل ازواج النبی حدیث 3895 جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ آپ حکومتی اور تربیتی مصروفیات کی وجہ سے انتہائی معمور الاوقات تھے۔عبادات کی مصروفیت تھی لیکن اس کے باوجود گھر کے کام کاج اور ذمہ داریوں کو با حسن انجام فرماتے تھے۔حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ جتنا وقت آپ گھر میں ہوتے ،گھر والوں کی مدد اور خدمت میں مصروف رہتے۔تھے۔(صحیح البخاری کتاب الایمان باب من كان في حاجة اهله حدیث (676) آپ کی دوسری ذمہ داریاں گھریلو کاموں میں حارج نہیں ہوتی تھیں۔کپڑوں کو پیوند لگا لیتے ( مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ 313 مند عائشة حديث 25855) بکری کا دودھ دوہ لیتے تھے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحه797مسندابوبصرةالغفاری ماله حدیث 27768)