خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 500
خطبات مسرور جلد دہم 500 خطبه جمعه فرموده مورخه 17 اگست 2012 ء سکتے تو آپ کی کنیت سے پکارو اور ابوالقاسم کہو۔یہودی نے کہا کہ میں تو اسی نام سے بلاؤں گا جو آپ کے ماں باپ نے آپ کا رکھا ہے۔اس پر آپ مسکرائے اور فرمایا یہ ٹھیک کہتا ہے میرے ماں باپ نے میرا نام محمد ہی رکھا ہے۔اسی طرح اس کو مخاطب کرنے دو اور غصہ نہ کرو۔(ماخوذ از صحیح مسلم کتاب الحیض باب بيان صفة منى الرجل والمرأة۔۔۔حديث (716) بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ لوگ آپ کا ہاتھ پکڑ کر کھڑے ہو جاتے۔بسا اوقات آپ کے ضروری کاموں میں روک پیدا ہورہی ہوتی ، آپ کا وقت ضائع ہور ہا ہوتا لیکن بڑے صبر اور تحمل سے آپ اُن کی باتیں سنتے اور اُن کی حاجتیں پوری فرماتے۔(صحیح مسلم کتاب الفضائل باب قرب النبي واللهم من الناس۔۔۔حديث 6044) انصاف کے معیار کا یہ حال تھا کہ اگر کسی نے جرم کیا ہے تو یہ نہیں دیکھنا کہ امیر ہے یا غریب ہے یا اعلیٰ خاندان کا ہے یا عام آدمی ہے۔جب ایک امیر عورت نے کسی دوسرے کے مال کو ہتھیانے کی کوشش کی اور اُس پر قبضہ کیا تو اُس کو سزا ہوئی۔تو ان کے جو قبائل تھے اُن میں سے بعضوں میں، خاص طور پر اُن لوگوں میں جو اس کے قریبی تھے، اس سے بڑی بے چینی پیدا ہو گئی کہ یہ بڑے خاندان کی عورت ہے،اس کو کیوں سزا ہوئی ہے؟ آپ کی خدمت میں اُسامہ کو سفارش کے لئے بھیجا گیا کہ اس کی سزا معاف کر دیں۔آپ نے یہ سنا تو غصہ کا اظہار فرمایا۔حالانکہ آپ وہ ہستی تھے جو سرا پا شفقت اور عفو سے کام لینے والے تھے ، خوش اخلاقی سے بات کرنے والے تھے اور آپ کو کبھی غصہ نہیں آتا تھا لیکن اس موقع پر آپ کو غصہ آیا کہ میرے پاس خدائی حکم کے مخالف سفارش کرنے آئے ہو۔فرمایا پہلی قو میں اس لئے تباہ ہوئیں کہ بڑوں کا لحاظ کرتی تھیں اور چھوٹوں پر ظلم کرتی تھیں۔اسلام اس بات کی اجازت نہیں دیتا۔خدا کی قسم ! اگر میری بیٹی فاطمہ بھی جرم کرتی تو میں اُسے سزا دئے بغیر نہ چھوڑتا۔(صحیح البخاری کتاب احادیث الانبیاء باب 54/52 حدیث 3475) آجکل ہم دیکھتے ہیں کہ انصاف مسلمانوں میں مفقود ہے اور یہی ان کے زوال کا سبب بن رہا ہے۔پس ہمیں بھی بہت زیادہ اس بارے میں احتیاط کرنی چاہئے۔ہمارے عہد یداروں کو بھی انصاف کے تقاضے پورے کرنے چاہئیں اور ایسے معیار قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کیونکہ یہ بہت خطرناک چیز ہے جو زوال کا باعث بنتی ہے۔پھر دشمن سے انصاف کا قرآنی حکم ہے۔تو اس کا کیا نمونہ دکھایا ؟ اس کی بھی ایک مثال د