خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 483
خطبات مسرور جلد و هم 483 خطبه جمعه فرموده مورخه 10 اگست 2012 ء کو اختیار کرنا اور اُس کا رنگ پکڑنا اس لئے ہے کہ ہم اُس کے عبد ہیں اور ہمیں اُس کی رضا چاہئے۔ہمیں اُس کی بندگی سب سے زیادہ قیمتی ہے اور اُس کی عبادت کرنے والے ہیں۔اُس کے حکموں کے مطابق اپنی زندگیاں گزارنے والے ہیں اور گزارنا چاہتے ہیں۔پس ہم نے یہ زندگی صرف ایک ماہ اُس کے حکم کے مطابق نہیں گزارنی بلکہ ہماری زندگی کا ہرلمحہ اُس کے حکموں کے مطابق گزرے گا۔پس اس بات پر ہمیں غور کرنا چاہئے کہ اپنے اندر پاک تبدیلیاں لاتے ہوئے ہم نے اس رمضان سے گزرنا ہے انشاء اللہ۔اللہ تعالیٰ کی صفات پر غور کرتے ہوئے ہم نے اس رمضان میں سے گزرنا ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنی زندگیوں پر لاگو کرتے ہوئے ہم نے اس رمضان میں سے گزرنا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ہم نے اس رمضان میں سے گزرنا ہے اور پھر اس سارے عمل کو اگلے رمضان سے ملانے کا عہد کرتے ہوئے اُس کی کوشش کرنی ہے۔جب یہ سب کچھ ہو گا تو فیائی قریب (البقرة: 187) کی خوشخبری بھی ہم سنے والے بن سکیں گے۔اجیبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة: 187) کہ میں دعا کرنے والے کی دعا کا جواب دیتا ہوں کو بھی ہم مشاہدہ کر سکیں گے۔پس اس مقام کے حصول کے لئے ہمیں کوشش بھی کرنی چاہئے اور دعا بھی کرنی چاہئے۔ہماری دعاؤں کا محور صرف ہماری اپنی دنیاوی خواہشات نہ ہوں بلکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنے اوپر لاگو کرتے ہوئے حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف بھی توجہ ہو، اُن نیکیوں کے کرنے کی طرف بھی توجہ ہو جن کے کرنے کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر کہ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي (البقرة:187) کہ وہ میری بات پر لبیک کہیں ، ایک مومن کی توجہ اپنے احکامات کی طرف بھی مبذول کروائی ہے۔اس بات کی تاکید فرمائی کہ ایک مومن کو اپنی ذمہ داری کو سمجھنا چاہتے تبھی وہ کامل مؤمن ہوسکتا ہے۔اس وقت میں اس حوالے سے بھی کچھ کہوں گا کہ اللہ تعالیٰ کی باتوں پر لبیک کہنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے جو اخلاقی ذمہ داریاں اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی کی ذمہ داریاں ڈالی ہیں، وہ کیا ہیں؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مثلاً کہ جو مومن ہیں تَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ (آل عمران: 111) کہ اللہ تعالیٰ کے حقیقی بندے وہ ہیں جو نیکیوں کا حکم دینے والے ہیں اور برائیوں سے روکنے والے ہیں۔اور ظاہر ہے اس پر حقیقی رنگ میں عمل کرنے والے وہی لوگ ہوں گے اور ہونے چاہئیں جو خود بھی نیکیوں پر عمل کرنے والے اور برائیوں سے بچنے والے ہوں۔پس جب ایک حقیقی مومن بننے کی کوشش ہو گی تو اپ