خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 484
خطبات مسرور جلد دہم 484 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 10 اگست 2012 ء محاسبہ کی طرف بھی توجہ پیدا ہوگی اور حقیقت یہی ہے کہ اپنے محاسبے کی طرف نظر ہی خدا تعالیٰ کی صفات کو اپنانے اور اُس کے اظہار کی طرف متوجہ بھی رکھتی ہے۔پس ایک بہت بڑی ذمہ داری مومنوں پر ڈالی گئی ہے کہ تم نے یہ کام کرنے ہیں۔رمضان میں جب دلوں میں عام دنوں کی نسبت زیادہ خشیت ہوتی ہے اور انسان بعض اوقات اپنے جائزے بھی لیتا ہے تو جب وہ اس طرف توجہ کرے کہ خدا تعالیٰ نے ایک مسلمان کا، ایک حقیقی مومن کا ، اُس شخص کا جو اللہ تعالیٰ سے اُس کا عبد بننے کی دعامانگتا ہے، کیا معیار مقرر کیا ہے تو پھر پاک تبدیلی پیدا کرنے کی طرف توجہ رہے گی۔اُسے ہمیشہ خدا تعالیٰ کا یہ ارشاد بھی سامنے رکھنا چاہئے کہ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ اللَّهِ أَنْ تَقُولُوا مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف: 4) کہ خدا تعالیٰ کے نزدیک اس بات کا دعویٰ کرنا اور ایسی بات کہنا جو تم کرتے نہیں، بہت بڑا گناہ ہے۔پس ان دنوں میں ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور خاص طور پر ہر سطح کے ذیلی تنظیموں کے بھی اور مرکزی عہدیداروں کو بھی میں کہتا ہوں کہ اپنے جائزے لیں۔واقفین زندگی کو بھی اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے اور عمومی طور پر ہر احمدی کو تو ہے ہی کہ جب ہم نصیحت کرتے ہیں تو خود ہماری اپنی زندگیوں پر بھی اُن کے اثرات ظاہر ہوں۔اگر ایک عام مسلمان کا یہ فرض ہے، ایک عام مومن کا یہ فرض ہے اور وہ اس کام کے لئے پیدا کیا گیا ہے کہ نیکیوں کو پھیلائے اور برائیوں کو روکے تو جولوگ اس کام کے لئے مقرر ہیں اُن کا تو سب سے زیادہ فرض بنتا ہے اور یہ فرض پورا بھی اُس وقت ہو گا جب ہماری اپنی نیتیں بھی صاف اور پاک ہوں گی۔جب خود ہر حکم پر عمل کرنے کی بھر پور کوشش ہو گی۔اگر عہد یداروں کے عبادتوں کے معیار بھی صرف رمضان میں بہتر ہوئے ہیں اور عام دنوں میں نہیں تو وہ بھی قول و فعل میں تضا در کھتے ہیں اور یہ چیز اللہ تعالیٰ کو سخت نا پسند ہے۔میں اکثر مختلف میٹنگوں میں عہد یداران کو یہ توجہ دلاتا ہوں کہ اگر ہر سطح پر اور ہر تنظیم کے عہدیدارا اپنی عبادتوں کے معیار کو ہی بہتر کر لیں اور مسجدوں کو آباد کرنا شروع کر دیں تو مسجدوں کی جو آبادی ہے وہ موجودہ حاضری سے دو تین گنا بڑھ سکتی ہے۔پس اس طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کے باقی احکامات ہیں۔اُن کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے تو اس سے بہت سے مسائل خود بخود دحل ہو جاتے ہیں۔پھر اسی طرح جیسا کہ میں نے کہا دوسرے احکام ہیں ان پر عمل ضروری ہے۔قرآنِ کریم کا ایک حکم یہ بھی ہے کہ انصاف کو اس طرح قائم کرو کہ اپنے خلاف بھی گواہی دینی پڑے یا اپنے پیاروں والدین