خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 482 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 482

خطبات مسرور جلد دہم 482 خطبه جمعه فرموده مورخه 10 اگست 2012 ء تعریف کر رہے تھے اب تم بد تعریفیں کر رہے ہو۔اس نے کہا جی حضور میں تو آپ کا غلام ہوں ، ان بینگنوں کا غلام تو نہیں۔تو یہ رنگ نہیں چڑھتا۔اُس نے تو اپنے پر وہ رنگ چڑھانے کی کوشش کی تھی کہ جو مالک کہہ رہا ہے میں بھی وہ کہتا جاؤں لیکن اللہ تعالیٰ کا رنگ ایسا ہے جو انسان جب چڑھاتا ہے تو اپنی دنیا و عاقبت سنوار لیتا ہے۔خدا تعالیٰ جو زمین و آسمان کا مالک ہے، اُس کے رنگ میں رنگین ہونے والا تو اپنی دنیا و عاقبت سنوار رہا ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی صفات کو اپنا کر ایک بندہ خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرتا ہے۔یہی رنگ ہے جو مومن اپنے اوپر چڑھاتا ہے تو اپنی پیدائش کے حقیقی مقصد کو حاصل کر لیتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ کا عبد بننے کے لئے اللہ تعالیٰ کی صفات کا مظہر بننے کی بھی ایک مومن کو کوشش کرنی چاہئے۔اُن چیزوں کو کرنے کی کوشش کرنی چاہئے ، وہ اعمال بجالانے کی کوشش کرنی چاہئے جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔اُن باتوں سے رکنا چاہئے جو اللہ تعالیٰ کو نا پسند ہیں۔تبھی صحیح رنگ میں انسان اللہ تعالیٰ کا عبد بن سکتا ہے۔جب اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ اللہ تعالیٰ کا رنگ اختیار کرنے کی کوشش کرو، اُس کی صفات کا مظہر بننے کی کوشش کرو تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ صلاحیت انسان کو عطا فرمائی ہے کہ وہ یہ صفات اپنا سکے۔اور پھر اپنے دائرہ کے اندر اُن صفات کا اظہار بھی کر سکے۔انسان اپنے دائرہ میں مالکیت کا رنگ بھی اختیار کر سکتا ہے، رحمانیت کا رنگ بھی اختیار کر سکتا ہے، رحیمیت کا رنگ بھی اختیار کرسکتا ہے، ربوبیت کارنگ بھی اختیار کر سکتا ہے، ستار ہونے کا رنگ بھی اختیار کر سکتا ہے، وہاب ہونے کا رنگ بھی اختیار کر سکتا ہے بلکہ ایک عام انسان کی زندگی میں بسا اوقات ان باتوں کے اظہار ہو بھی رہے ہوتے ہیں۔بہت سے لوگ ہیں جوان صفات کا اظہار کر رہے ہوتے ہیں لیکن اس نیت سے نہیں کہ خدا کے رنگ میں رنگین ہوں۔لیکن ایک حقیقی مومن جو ہے، وہ مومن جو خدا تعالیٰ کی رضا اور اُس کے پیار کو چاہتا ہے، اُس کی نشانی یہ ہے کہ ان صفات کا اظہار اس لئے ہو کہ اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے کے لئے ان صفات کا اظہار ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لئے ان صفات کا اظہار ضروری ہے۔انسانیت کو برائیوں سے بچانے کے لئے ان صفات کا اظہار ضروری ہے۔اپنے مقصد پیدائش کے حصول کے لئے ان صفات کا اظہار ضروری ہے۔تو یہ رنگ اپنا نا اور ان کا اظہار کرنا پھر ثواب بن جاتا ہے۔اللہ تعالیٰ کے پیار کو جذب کرنے والا بن جاتا ہے۔یہ حکم دینے کے بعد کہ اللہ تعالیٰ کا رنگ اختیار کرو، فرمایا کہ اے مومنو! اے میرے بندو! یہ اعلان بھی کرو کہ وَنَحْنُ له عبدُونَ (البقرة: 139) کہ ہم اُس کی عبادت کرنے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ کی صفات