خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 465
خطبات مسر در جلد دہم 465 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 اگست 2012 ء گزشتہ خطبہ میں رمضان کے حوالے سے یہ باتیں ہوئیں تھیں کہ رمضان سے بھر پور فائدہ اُٹھانے کے لئے اپنے قول اور عمل کی اصلاح ضروری ہے۔تبھی خدا تعالیٰ کے نزدیک روزے اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔میں نے یہ بھی ذکر کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کی خشیت دل میں رکھتے ہوئے جو روزے رکھے جائیں وہی رمضان کے فیض سے فیضیاب بھی کرواتے ہیں۔کیونکہ رمضان کے حوالے سے بات ہو رہی تھی اس لئے روزوں کو خشیت کے ساتھ جوڑا گیا تھا۔اس تعلق کا اظہار کیا گیا تھا ورنہ ہر نیکی جو انسان کرنے کی کوشش کرتا ہے وہ حقیقی نیکی اُس وقت بنتی ہے جب دل میں خشیت بھی ہو۔اُس وقت میں نے کہا تھا کہ کچھ حصہ باقی رہ گیا ہے اور وہ میں خشیت کی وضاحت کرنا چاہتا تھا۔لیکن بہر حال اب اُس مضمون میں تھوڑا سا مزید اضافہ ہو گیا ہے تو اس کو میں آج بیان کروں گا۔یہ خشیت کا لفظ ہم عموماً استعمال کرتے ہیں۔اگر اس کی روح کا پتہ چل جائے تو ہمارا نیکیاں بجالانے کا معیار بھی بڑھ جائے۔اس لئے اس لفظ کے لغوی معنی بھی میں آج بیان کرنا چاہوں گا۔خشیت کے عام معنی خوف کے کئے جاتے ہیں۔بیشک یہ معنی بھی ٹھیک ہیں اور اللہ تعالیٰ کا خوف جس میں ہو پھر یہ خوف اُسے نیکیوں کی طرف توجہ دلاتا ہے۔لیکن یہ بھی یا درکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ کا خوف کسی عام خوف اور ڈر کی طرح نہیں ہے۔اس لئے اہل لغت نے اس کی وضاحت بھی کی ہے۔مثلاً ایک لغت کہتی ہے کہ خشیت میں ڈر کا لفظ خوف کی نسبت زیادہ پایا جاتا ہے۔پھر خشیت اور خوف میں ایک فرق یہ بھی ہے کہ خشیت میں اُس ڈر کے معنی پائے جاتے ہیں جو اُس ذات کی عظمت کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے جس سے ڈرا جائے۔اور خوف میں اُس ڈر کا مفہوم پایا جاتا ہے جو ڈرنے والے کی اپنی کمزوری پر دلالت کرتا ہے۔اس کے بارہ میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے لغات کے حوالے سے بڑی وضاحت فرمائی ہے۔(اقرب الموارد زیر ماده خشی ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 1 صفحه 525) پھر امام راغب اپنی لغت مفردات القرآن میں لکھتے ہیں کہ الْخَشِيَةُ اُس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے دل پر طاری ہو جائے۔یہ چیز عام طور پر اُس چیز کا علم ہونے سے ہوتی ہے جس سے انسان عام طور پر ڈرتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آیت کریمہ انما يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَموا (فاطر :29)۔اور اللہ تعالیٰ سے اُس کے بندوں میں سے وہی ڈرتے ہیں جو صاحب علم ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ اس آیت میں خشیت الہی کے ساتھ علماء کو خاص کیا گیا ہے۔امام راغب کا طریق یہ ہے کہ قرآنی آیات کے حوالے سے الفاظ کے معنی کی مختلف صورتیں بیان کرتے ہیں تو اس میں انہوں نے اس آیت کا ذکر کیا