خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 466
خطبات مسرور جلد دہم 466 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 3 اگست 2012 ء ہے۔اسی طرح وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی عظمت سے وہ لوگ بھی ڈرتے ہیں جن کے بارے میں قرآن کریم میں آتا ہے کہ مَن خَشِيَ الرَّحْمَنِ بِالْغَيْبِ (سورۃ ق:34)۔جو خدا تعالیٰ سے غیب میں ڈرتے ہیں۔(معجم مفردات الفاظ القرآن لامام راغب زیر ماده خشی یعنی یہ غیب کا ڈرنا اُس وقت ہو سکتا ہے جبکہ دل میں ایسا خوف ہو جو معرفتِ الہی کا تقاضا ہے۔پس یہ خشیت کی وضاحت ہے کہ خشیت اُس خوف کو کہتے ہیں جو کسی کی عظمت کی وجہ سے پیدا ہو اور صرف کسی کی اپنی کمزوری کی وجہ سے یہ ڈر پیدا نہ ہو اور اللہ تعالیٰ کی خشیت یقیناً ایسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی عظمت کا اظہار بھی ہے اور ایک کمزور بندے کی اپنی کم مائیگی کا اظہار بھی ہے۔اللہ تعالیٰ کی عظمت کیا ہے؟ یہ یقین رکھنا کہ اللہ تعالیٰ سب طاقتوں کا مالک ہے اور اُس نے ہر چیز کا احاطہ کیا ہوا ہے۔ہر چیز اُس کی پیدا کردہ ہے اور اُس کے ذریعہ سے قائم ہے۔اُسی کی ملکیت ہے اور اُس کے چاہنے سے ہی ملتی ہے۔پس جب ایسے قادر اور مقتدر خدا پر ایمان ہو اور اُس کی خشیت دل میں پیدا ہو تو پھر ہی انسان اُس کی قدرتوں سے حقیقی فیض پاسکتا ہے۔یہاں یہ بھی سوال ذہن میں آتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حقیقی خشیت علماء میں ہی ہوتی ہے تو کیا ہر عالم کہلانے والا یا اپنے زعم میں عالم اللہ تعالیٰ کی خشیت رکھتا ہے۔اور یہ بھی کہ شاید جو غیر عالم ہیں وہ اُس معیار تک نہیں پہنچ سکتے جس خشیت کا معیار اللہ تعالیٰ چاہتا ہے۔اگر یہی معیار ہے کہ صرف عالم اُس تک پہنچ سکے تو پھر آجکل تو ہم ایسے ہزاروں لاکھوں علماء دیکھتے ہیں جن کے قول و فعل میں تضاد ہے۔جو قرآن کریم کو بھی صحیح طرح نہیں سمجھتے ، جنہوں نے اس زمانے کے امام کو نہ صرف مانا نہیں بلکہ مخالفت میں گھٹیا ترین حرکتوں کی بھی انتہا کی ہوئی ہے اور وہ کہلاتے عالم ہیں۔پس یقیناً یہ باتیں اس بات پر سوچنے پر مجبور کرتی ہیں کہ علماء کی تعریف کچھ اور ہے۔اللہ تعالیٰ جن علماء کا یہاں ذکر فرما رہا ہے اور اللہ تعالیٰ جن کو علماء کہتا ہے وہ کچھ اور لوگ ہیں۔اگر ہر ایک کو ہی عالم سمجھ لیا جائے جو دینی مدرسہ میں واجبی تعلیم حاصل کر کے فارغ ہوا ہے، جس طرح آجکل عموماً ہمارے ملکوں میں پھرتے ہیں یا جس کو عام دنیا دار یا اُس کے ارد گرد کے طبقے کے لوگ عالم سمجھتے ہیں یا جس نے دنیاوی تعلیم حاصل کی ہے، عالم کی ایک اور صورت بھی ہوتی ہے کہ دینی نہ سہی اپنی دنیاوی تعلیم کی بھی انتہا کو پہنچا ہوا ہے۔بڑے بڑے سائنسدان ہیں، سائنسی تجربات کرنے والے ہیں۔دنیاوی علوم میں اُن کا کوئی ہم پلہ نہیں ہے۔تو یہ بات بھی غلط ہوگی کہ صرف دنیا وی عالم کو عالم سمجھا جائے۔دنیاوی علوم حاصل کرنے والے