خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 463
خطبات مسرور جلد دہم 463 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2012ء شفٹ ہو گیا اور یہیں انہوں نے حضرت خلیفہ اول کی بیعت کی۔مریم سلطانہ صاحبہ پیدائشی احمدی تھیں اور 1949ء میں ان کی ڈاکٹر محمد احمد خان صاحب سے شادی ہوئی تھی ، جو خان میر خان صاحب جو حضرت خلیفہ المسیح الثانی کے باڈی گارڈ تھے اُن کے بیٹے تھے۔پھر یہ لوگ کو ہاٹ چلے گئے۔وہاں ایک دفعہ ایک معاند مولوی ان کے پاس آیا کہ ایک مریض بیمار ہے اور بلایا اور لے گیا۔وہاں جا کے ان کو گولی مار کے شہید کر دیا اور پھر جب ان کی لاش آئی تو اور کوئی احمدی نہیں تھا۔احمدیوں کا یہ ایک اکیلا گھر تھا، چھوٹے چھوٹے بچے تھے۔ان کے خاوند موصی بھی تھے۔اب لاش گھر میں پڑی ہے، چھوٹے بچے بلک رہے ہیں کہ کیا کریں۔اور دلاسا دینے والا بھی کوئی نہیں۔مشورہ دینے والا بھی کوئی نہیں۔کمیونیکیشن کا نظام کوئی نہیں تھا۔فون دون بھی کوئی نہیں تھا۔پھر ان کو یہ بھی تھا کہ میرا خاوند موصی ہے۔ان کو ربوہ لے کر جانا ہے۔بہر حال انہوں نے بڑی ہمت کی اور کسی طرح ایک ٹرک کرائے پر لیا اور اس میں نعش بھی رکھی، بچے بھی بٹھائے۔حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ان دنوں نخلہ میں تھے تو وہاں پر لے آئیں۔وہاں اُن کا جنازہ پڑھا گیا۔پھر ربوہ لے کر آئیں اور پھر بڑی محنت سے اپنے بچوں کی تربیت کی۔کوشش کی کہ ان کو پڑھائیں لکھا ئیں اور ان کی صحیح تربیت ہو جائے۔اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس میں وہ سرخرو ہوئیں۔ان کی جو خواہش تھی کہ بچے بھی نیکیوں پر قائم رہیں اور اس وجہ سے وہ ان کو اُس ماحول سے بچا کر لائیں تھی۔اللہ تعالیٰ ان کی اولاد در اولاد اور نسلوں میں احمدیت کے خادم پیدا کرتا رہے اور حقیقی وفا کے ساتھ احمدیت کے ساتھ جڑے رہنے والے ہوں۔اللہ تعالیٰ ان کے بھی درجات بلند فرمائے۔جیسا کہ میں نے کہا ابھی نماز جمعہ کے بعد ان سب کی نماز جنازہ غائب ادا کروں گا۔الفضل انٹرنیشنل مورخه 17 اگست تا 23 اگست 2012 جلد 19 شماره 33 صفحه 5 تا8)