خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 462 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 462

خطبات مسر در جلد دہم 462 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 27 جولائی 2012ء نے 1997ء سے 2001 ء تک عربی میں تخصص کیا اور پھر نظارت اشاعت میں کام کیا۔جامعہ احمدیہ میں عربی کے استادر ہے۔پھر یہ 2007ء میں شام چلے گئے ، وہاں عربی زبان میں ڈپلومہ کیا۔اسی طرح ہومیو پیتھک میں بھی ان کو کچھ درک تھا۔پھر واپس آئے ہیں تو اصلاح وارشاد مرکز یہ میں تعینات ہوئے۔بڑے علم دوست آدمی تھے ، نہ صرف علم دوست تھے بلکہ ایک مربی کی جو خصوصیات ہیں وہ بھی ان میں تھیں۔وقف زندگی کی خصوصیات بھی ان میں تھیں۔اور پھر اسی طرح جیسا کہ میں نے کہا ہو میو پیتھک میں بھی انہوں نے ڈپلومہ کیا ہوا تھا۔غریبوں کی مدد کیا کرتے تھے اور بے وقت بھی اگر کوئی آجا تا تھا تو ہمیشہ اس کو آپ نے دوائیاں دیں ، خوش مزاجی سے اس سے ملے۔اپنے ساتھیوں سے کارکنوں سے بڑا اچھا سلوک تھا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ان کے جو بچے ہیں اُن کو بھی اللہ تعالیٰ صبر اور حوصلہ دے۔تیسرا جنازہ معراج سلطانہ صاحبہ اہلیہ حکیم بدر الدین صاحب عامل درویش قادیان کا ہے۔ان کی چھیاسی سال کی عمر میں 19 جولائی کو وفات ہوئی ہے۔اِنَّا لِله وَ اِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔نہایت خلوص اور وفا کے ساتھ انہوں نے بھی درویشی کا زمانہ گزارا۔سکول ٹیچر بھی تھیں۔ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہیں پڑھاتی رہیں۔بڑی نیک دل ، صابر شاکر اور حوصلہ مند خاتون تھیں۔لجنہ اماءاللہ قادیان کی جنرل سیکرٹری رہی ہیں اور بھی مختلف خدمات پر مامورر ہیں۔غریب بچوں کو اپنے گھر میں رکھ کر تعلیم دلواتی رہیں۔اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔اسی طرح چو تھا جنازہ مریم سلطانہ اہلیہ ڈاکٹر محمد احمد خان صاحب شہید کا ہے۔ان کے خاوند محمد احمد خان صاحب ٹل ضلع کو ہاٹ میں شہید ہوئے تھے۔مریم سلطانہ صاحبہ کی وفات 18 جولائی 2012ء کو ہوئی ہے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ۔بڑی محنت کرنے والی خاتون تھیں۔دعوت الی اللہ کا بڑا شوق تھا۔قربانی کرنے والی تھیں اور بڑے مضبوط ارادے کی مالک تھیں۔ان کے ہمت اور مضبوط ارادے کا اس طرح پتہ لگتا ہے کہ ان کے خاوند ڈاکٹر محمد احمد خان صاحب کو 1957ء میں کو ہاٹ میں شہید کر دیا گیا۔حضرت خلیفۃالمسیح الثانی کے زمانے کی بات ہے۔مریم سلطانہ صاحبہ کے والد کا نام عنایت اللہ افغانی تھا اور ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ آپ کے والد عنایت اللہ افغانی صاحب کی بیعت سے ہوا جنہوں نے حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔عنایت اللہ افغانی صاحب کا تعلق افغانستان کے علاقہ خوست سے تھا اور آپ حضرت صاحبزادہ عبد اللطیف صاحب شہید کے مریدوں میں سے تھے۔پھر ان کا جو خاندان ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کے بعد افغانستان سے قادیان