خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 39 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 39

خطبات مسر در جلد دہم 39 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012 ء پرکھلیں گے اور ظاہر ہوں گے۔پس نیکیوں میں آگے بڑھنے کی روح اُس وقت پیدا ہوگی جب قرآن کریم کا علم حاصل کرنے کی اور اُس کو سمجھنے کی اور اُس کی معرفت حاصل کرنے کی کوشش ہوگی۔اس لئے اگر حقیقی مومن بننا ہے اور اُن لوگوں میں شامل ہونا ہے جن کو حقیقی نیکیوں کا فہم و ادراک حاصل ہوتا ہے تو قرآن کریم کو بھی بہت غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔اس سے علم و معرفت بڑھتی ہے۔پھر آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ: ”اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں فلاح دارین حاصل ہو اور لوگوں کے دلوں پر فتح پاؤ، تو پاکیزگی اختیار کرو عقل سے کام لو اور کلام الہی کی ہدایات پر چلو۔خود اپنے تئیں سنوارو اور دوسروں کو اپنے اخلاق فاضلہ کا نمونہ دکھاؤ۔تب البتہ کامیاب ہو جاؤ گے۔کسی نے کیا اچھا کہا ہے۔“ (فارسی میں ہے کہ ) وسخن کز دل برون آید نشیند لاجرم بر دل۔( کہ جو بات دل سے نکلتی ہے وہ دل پر اترتی ہے )۔پس پہلے دل پیدا کرو۔فرمایا کہ "پس پہلے دل پیدا کرو۔اگر دلوں پر اثر اندازی چاہتے ہو تو عملی طاقت پیدا کرو۔کیونکہ عمل کے بغیر قولی طاقت اور لسانی قوت کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔زبان سے قیل و قال کرنے والے تو لاکھوں ہیں۔بہت سے مولوی اور علماء کہلا کر منبروں پر چڑھ کر اپنے تئیں نائب الرسول اور وارث الانبیاء قرار دے کر وعظ کرتے پھرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ تکبر، غرور اور بدکاریوں سے بچو۔مگر جو ان کے اپنے اعمال ہیں اور جو کر تو تیں وہ خود کرتے ہیں ان کا اندازہ اس سے کر لو کہ ان باتوں کا اثر تمہارے دل پر کہاں تک ہوتا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 42 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) یقیناً جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مان لیا، اُن کے دلوں پر تو ان مولویوں کا اثر نہیں ہوتا لیکن جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نہ ماننے والے ہیں ان میں جو پڑھے لکھے ہیں، کچھ عقل رکھنے والے ہیں، کچھ حد تک اُن میں شرافت بھی ہے، اُن سے اگر پوچھو تو وہ مولویوں کو برا بھلا ہی کہتے ہیں کہ کرتے کچھ ہیں، کہتے کچھ ہیں۔سوائے فتنہ اور فساد کے انہوں نے کچھ نہیں بر پا کیا ہوا۔پس ہمارے قول و فعل ایک ہوں گے تو اسی سے ہمارے تبلیغ کے راستے بھی کھلیں گے اور دوسروں پر اثر بھی ہوگا۔پھر نئے علوم کے بارے میں کہ اُن کو حاصل کرنا چاہئے ، آپ فرماتے ہیں کہ : میں ان مولویوں کو غلطی پر جانتا ہوں جو علوم جدیدہ کی تعلیم کے مخالف ہیں۔وہ دراصل اپنی غلطی اور کمزوری کو چھپانے کے لئے ایسا کرتے ہیں۔ان کے ذہن میں یہ بات سمائی ہوئی ہے کہ علوم جدیدہ کی تحقیقات اسلام سے بدظن اور گمراہ کر دیتی ہے اور وہ یہ قرار دیے بیٹھے ہیں کہ گویا عقل اور سائنس اسلام سے بالکل متضاد چیزیں ہیں۔چونکہ خود فلسفہ کی کمزوریوں کو ظاہر کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اس لئے