خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 40 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 40

خطبات مسرور جلد دہم 40 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012ء وو اپنی اس کمزوری کو چھپانے کے لئے یہ بات تراشتے ہیں کہ علوم جدیدہ کا پڑھنا ہی جائز نہیں۔اُن کی رُوح فلسفہ سے کانپتی ہے اور نئی تحقیقات کے سامنے سجدہ کرتی ہے۔فرمایا کہ ”مگر وہ سچا فلسفہ ان کو نہیں ملا جو الہام الہی سے پیدا ہوتا ہے۔( دنیاوی فلسفہ کا جواب نہیں دے سکتے اس لئے کانپتے ہیں اور کہتے ہیں اس کو پڑھو ہی نہ، دیکھو ہی نہ۔) فرمایا کہ وہ سچا فلسفہ اُن کو نہیں ملا جو الہام الہی سے پیدا ہوتا ہے جو قرآن کریم میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔وہ ان کو اور صرف انہیں کو دیا جاتا ہے جو نہایت تذلل اور نیستی سے اپنے تئیں اللہ تعالیٰ کے دروازے پر پھینک دیتے ہیں۔“ ( اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی چوکھٹ پر رکھ دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے آگے جھکتے ہیں، اُس سے مدد مانگتے ہیں۔فرمایا کہ جن کے دل اور دماغ سے متکبرانہ خیالات کا تعفن نکل جاتا ہے اور جو اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتے ہوئے گڑ گڑا کر سچی عبودیت کا اقرار کرتے ہیں۔“ (اگر یہ حالت ہوتی ہے تو پھر اُن کو علم و عرفان عطا ہوتا ہے۔) ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 43 ایڈ یشن 2003 ، مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں : پس ضرورت ہے کہ آجکل دین کی خدمت اور اعلائے کلمتہ اللہ کی غرض سے علوم جدیدہ حاصل کرو ( دین کو پھیلانے کے لئے جو آجکل کے نئے علوم ہیں اُن کو حاصل کرو ) ” اور بڑے جدو جہد سے حاصل کرو۔“ ( اس میں محنت کرو۔سائنس میں ترقی کرو۔ریسرچ میں جاؤ۔آجکل احمدی طلباء کو خاص طور پر میں کہتا ہوں کہ اس طرف کوشش کریں۔یہ بھی تبلیغ کا ایک ذریعہ ہے اور یہ بھی نیکیاں پھیلانے کا ذریعہ ہے۔جب علم حاصل ہوگا، ماڈرن علم جو آجکل دنیا کا علم ہے، سائنس کا علم ہے وہ حاصل ہو گا تو بہت سارے مزید رستے کھلتے ہیں) فرمایا کہ ” علوم جدیدہ حاصل کرو اور بڑے جدو جہد سے حاصل کرو۔لیکن مجھے یہ بھی تجربہ ہے جو بطور انتباہ میں بیان کر دینا چاہتا ہوں کہ جو لوگ ان علوم ہی میں یکطرفہ پڑ گئے اور ایسے مواور منہمک ہوئے کہ کسی اہلِ دل اور اہل ذکر کے پاس بیٹھنے کا ان کو موقعہ نہ ملا اور وہ خود اپنے اندر الہی نور نہ رکھتے تھے وہ عموماً ٹھوکر کھا گئے اور اسلام سے دور جا پڑے۔( علوم تو بیشک حاصل کر ولیکن ساتھ ساتھ قرآن کریم کا علم بھی پڑھو، وہ بھی حاصل کرو تا کہ صحیح رستے پر چلتے رہو اور پھر جن لوگوں کو قرآن کا علم ہے، ان سے تعلق جوڑ و ) پھر فرمایا ' اور بجائے اس کے کہ ان علوم کو اسلام کے تابع کرتے۔الٹا اسلام کو علوم کے ماتحت کرنے کی بے سود کوشش کر کے اپنے زعم میں دینی اور قومی خدمات کے متکفل بن گئے۔مگر یاد رکھو کہ یہ کام وہی کر سکتا ہے یعنی دینی خدمت وہی بجالا سکتا ہے جو آسمانی روشنی اپنے اندر رکھتا ہو (ملفوظات جلد 1 صفحہ 43 ایڈ یشن 2003 مطبوعہ ربوہ )