خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 38
خطبات مسر در جلد دہم 38 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 20 جنوری 2012 ء کرتے ہیں ، جو شیطان کے پیچھے چلنے والے ہیں یہ کام اُن کا ہے )۔”جو شخص کسی کو چڑاتا ہے وہ نہ مرے گا جبتک وہ خود اسی طرح مبتلا نہ ہوگا۔اپنے بھائیوں کو حقیر نہ سمجھو۔جب ایک ہی چشمہ سے گل پانی پیتے ہو تو کون جانتا ہے کہ کس کی قسمت میں زیادہ پانی پینا ہے۔مکرم و معظم کوئی دنیاوی اصولوں سے نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ کے نزدیک بڑا وہ ہے جو متقی ہے۔اِنَّ اكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللهِ أَتْقَكُمْ إِنَّ اللهَ عَلِيمٌ خبير (الحجرات:14)‘ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 22-23 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) 66 فرمایا کہ: ”سچی فراست اور سچی دانش اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل ہی نہیں ہو سکتی۔“ عقل اور فکر اور فراست جو ہے اللہ تعالیٰ کی طرف جھکے بغیر، اُس کی طرف رجوع کئے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔فرمایا کہ اسی واسطے تو کہا گیا ہے کہ مومن کی فراست سے ڈرو کیونکہ وہ نورالہی سے دیکھتا ہے صحیح فراست اور حقیقی دانش کبھی نصیب نہیں ہو سکتی جب تک تقویٰ میسر نہ ہو۔فرماتے ہیں کہ اگر تم کامیاب ہونا چاہتے ہو تو عقل سے کام لو۔فکر کرو۔سوچو۔تدبر اور فکر کے لئے قرآن کریم میں بار بار تاکیدیں موجود ہیں۔کتاب مکنون اور قرآن کریم میں فکر کرو اور پارساطبع ہو جاؤ۔جب تمہارے دل پاک ہو جائیں گے اور ادھر عقل سلیم سے کام لو گے اور تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔پھر ان دونوں کے جوڑ سے وہ حالت پیدا ہو جائے گی کہ رَبّنَا مَا خَلَقْتَ هَذا بَاطِلًا سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (آل عمران: 192) تمہارے دل سے نکلے گا۔اس وقت سمجھ میں آجائے گا کہ یہ مخلوق عبث نہیں بلکہ صانع حقیقی کی حقانیت اور اثبات پر دلالت کرتی ہے تاکہ طرح طرح کے علوم وفنون جو دین کو مدددیتے ہیں ظاہر ہوں۔“ ( ملفوظات جلد 1 صفحہ 41-42 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ) پھر یہ بات دل سے نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ پیدا کیا ہے وہ جھوٹ نہیں ہے، وہ باطل نہیں ہے۔اللہ تعالیٰ پاک ہے اور پھر اُس سے دعا مانگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں آگ کے عذاب سے بچالے۔فرماتے ہیں کہ جب یہ دعا دل سے نکلے گی تو اُس وقت سمجھ آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کی جو ساری مخلوق ہے یہ بے فائدہ پیدا نہیں کی گئی۔ہر چیز کا ایک مقصد ہے۔اگر انسان ہے تو ہر انسان کا ایک مقام ہے۔اُس کی عزت کرنا ضروری ہے۔بلکہ اللہ تعالی کی ہر مخلوق جو ہے اُس کا ایک مقصد ہے۔اُس کو سمجھنے کی کوشش کرو تو پھر تمہیں سمجھے آئے گی کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز بلا وجہ پیدا نہیں کی۔پھر فرماتے ہیں : ”تاکہ طرح طرح کے علوم و فنون جو دین کو مدد دیتے ہیں ظاہر ہوں۔تمہاری عقل بڑھے گی تو تب مختلف قسم کے جو علوم ہیں، جو بھی دنیاوی علوم ہیں جو دین کے مددگار ہیں اُن کے بھید تم