خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 389
خطبات مسرور جلد دہم 389 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء تو یہ ہے ان لوگوں کے پیروں کا حال۔ہم نے یا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ماننے والوں نے ایسا پیر نہیں بننا۔ہم نے تو اپنے اندر وہ انقلابی تبدیلیاں پیدا کرنی ہیں جو ہماری حالتوں میں انقلاب لانے والی ہوں، ہمارے بچوں اور ہماری نسلوں کی حالتوں میں انقلاب لانے والی ہوں اور اس معاشرے میں روحانی انقلاب لانے والی ہوں۔پس ہمیشہ یا درکھیں کہ صرف ہمارا اعتقاد میں نہیں بچائے گا، نہ ہمارا اعتقاد انقلابی تبدیلیاں لائے گا بلکہ ہمارے عمل ہیں جو انقلاب لائیں گے انشاء اللہ۔اور سب سے بڑھ کر ہماری دعائیں ہیں جو جب اللہ تعالیٰ قبول فرمائے گا تو دنیا میں ایک انقلاب برپا ہو گا اور دعائیں کرنے کا بہترین ذریعہ نمازیں ہی ہیں۔پس اپنی نمازوں کی حفاظت ہر احمدی کا فرض ہے اور جب مجموعی طور پر تمام دنیا کے رہنے والے احمدیوں کا رُخ ایک طرف ہوگا تو یہ دعاؤں کے دھارے ایک انقلاب لانے کا باعث بنیں گے۔پس خلافت کے ہاتھ مضبوط کرنے کے لئے ہر احمدی کا فرض بنتا ہے کہ اپنی نمازوں کی طرف توجہ دے تا کہ وہ انقلاب جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ وابستہ ہے، جس کے نتیجے میں دنیا کی اکثریت نے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہونا ہے، وہ جو دعاؤں کے ذریعے سے عمل میں آنا ہے، وہ عمل میں آئے۔پس ہر احمدی اس بات کو ہمیشہ یادر کھے اور اپنی نمازوں کی حفاظت، اپنی اولاد کی نمازوں کی حفاظت کی طرف توجہ دے تا کہ ہم جلد تمام دنیا پر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا لہراتا ہوا دیکھیں۔اللہ تعالیٰ کے رحم کو ہم بھی اور ہماری نسلیں بھی جذب کرنے والی ہوں۔اللہ تعالیٰ کا رحم بھی نمازوں کا حق ادا کرتے ہوئے اور نماز پڑھنے والوں کے ساتھ جو خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے، اُن پر ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، وَآقِيْمُوا الصَّلوةَ وَأتُوا الزَّكوةَ وَ أَطِيعُوا الرَّسُولَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (النور: 57) اور نماز کو قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔پس ہم نے اگر اللہ تعالیٰ کے رحم حاصل کرنے والا بننا ہے تو اپنی نمازوں کی حفاظت اور اُس کے قیام کی بھی کوشش کرنی ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بار بار مختلف رنگ میں اپنے ماننے والوں کو نمازوں کی طرف توجہ دلائی ہے تا کہ جہاں ہم بیعت کا حق ادا کرنے والے ہوں، خدا تعالیٰ کا قرب پانے والے ہوں ، وہاں اللہ تعالیٰ کے رحم سے حصہ لے کر اپنی دنیا و آخرت سنوار نے والے بھی ہوں۔آپ فرماتے ہیں۔”اے وے تمام لوگو ! جو اپنے تئیں میری جماعت شمار کرتے ہو، آسمان پر تم اُس وقت میری