خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 390
خطبات مسر در جلد دہم 390 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء جماعت شمار کئے جاؤ گے جب سچ سچ تقویٰ کی راہوں پر قدم مارو گے۔سوا اپنی پنج وقتہ نمازوں کو ایسے خوف اور حضور سے ادا کرو کہ گویا تم خدا تعالیٰ کو دیکھتے ہو“۔فرمایا: "یقیناً یاد رکھو کہ کوئی عمل خدا تک نہیں پہنچ سکتا جو تقویٰ سے خالی ہے۔ہر ایک نیکی کی جڑ تقویٰ ہے۔جس عمل میں یہ جڑ ضائع نہیں ہوگی وہ عمل بھی ضائع نہیں کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15) ہوگا۔پھر آپ فرماتے ہیں: ” نماز کیا چیز ہے وہ دُعا ہے جو تسبیح تمھید، تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے۔سو جب تم نماز پڑھو تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو۔کیونکہ اُن کی نماز اور اُن کا استغفار سب رسمیں ہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں۔لیکن تم جب نماز پڑھو تو بجر قرآن کے جو خدا کا کلام ہے اور بجر بعض ادعیہ ماثورہ کے کہ وہ رسول کا کلام ہے، باقی اپنی تمام عام دعاؤں میں اپنی زبان میں ہی الفاظ متضرعانہ ادا کر لیا کرو تا کہ تمہارے دلوں پر اس عجز و نیاز کا کچھ اثر ہو۔“ کشتی نوح روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 68-69) پس یہ کیفیت ہے جو نمازوں میں ہمیں حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے اور یہ عجز و نیاز پھر خدا تعالیٰ کی رحمت کو کھینچنے کا باعث بنتا ہے۔پھر ایسے لوگ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے ہو جاتے ہیں۔اور ایسی ہی نمازیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہماری دیکھنا چاہتے ہیں۔ایک جگہ آپ فرماتے ہیں کہ : ” نماز ایسی شئے ہے کہ اس کے ذریعہ سے آسمان انسان پر جھک پڑتا ہے“۔( یعنی اللہ تعالیٰ پھر قبولیت دعا کے نظارے دکھاتا ہے) فرمایا ”نماز کا حق ادا کرنے والا یہ خیال کرتا ہے کہ میں مر گیا اور اس کی روح گداز ہو کر خدا کے آستانہ پر گر پڑی ہے۔۔۔۔۔۔۔جس گھر میں اس قسم کی نماز ہوگی وہ گھر کبھی تباہ نہ ہوگا۔حدیث شریف میں ہے کہ اگر نوع کے وقت میں یہ نماز ہوتی تو وہ قوم کبھی تباہ نہ ہوتی۔فرمایا ” حج بھی انسان کے لیے مشروط ہے، روزہ بھی مشروط ہے، زکوۃ بھی مشروط ہے مگر نماز مشروط نہیں“۔( یعنی باقی سب عبادتیں جو ہیں اُن کی بعض شرائط ہیں۔وہ شرائط پوری ہوتی ہوں تو ادائیگی ہوگی ، ورنہ فرض نہیں ہیں۔لیکن نماز ہر صورت میں لازمی ہے۔انسان مسافر ہے، مریض ہے، کیسی بھی حالت ہے، اگر ہوش و حواس میں ہے تو نماز فرض ہے ) فرمایا ”سب ایک سال میں ایک ایک دفعہ ہیں“ یہ مشروط بھی ہیں اور ایک سال میں ایک دفعہ ہیں مگر اس کا حکم ( یعنی نماز کا حکم ) ہر روز پانچ دفعہ ادا کر نے کا ہے“۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 627 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) اس لئے جب تک پوری پوری نماز نہ ہوگی تو وہ برکات بھی نہ ہوں گی جو اس سے حاصل ہوتی ہیں