خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 388 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 388

خطبات مسر در جلد دہم 388 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 جون 2012ء کہہ رہے ہیں۔پہلے خود تو اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کریں، پھر کہیں۔جب تک خودا اپنی حالتوں میں تبدیلی پیدا نہیں کریں گے، یا تبدیلی پیدا کرنے کے لئے اپنی انتہائی کوشش نہیں کریں گے، دوسرے کی دعائیں بھی پھر اثر نہیں کریں گی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جو جماعت قائم کرنے آئے تھے وہ ایسے لوگوں کی جماعت تھی جو خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے والے ہیں اور اپنی عبادتوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ، اس لئے آپ نے فرمایا کہ میں پیر پرستی کو ختم کرنے آیا ہوں۔فرمایا کہ تم پیر بنو، پیر پرست نہ بنو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 139 ایڈیشن 2003 مطبوعہ ربوہ ) لیکن جس قسم کے پیر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اپنے ماننے والوں کو بنانا چاہتے ہیں وہ آجکل کے نام نہاد دنیا پرست پیر نہیں ہیں جو ہاتھ میں تسبیح لے کر بیٹھ جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہماری عبادتوں اور دوسرے حقوق کی ادائیگی کا حق ادا ہو گیا۔نہ نمازوں کی ضرورت ہے، نہ عبادتوں کی ضرورت ہے۔نمازوں سے یہ لوگ کوسوں دور ہوتے ہیں۔خود نماز میں نہیں پڑھتے اور اپنے مریدوں کو بھی نمازوں کے لئے یہی کہتے ہیں کہ کوئی ضرورت نہیں۔بہت سے لوگ ایسے ہیں۔ایسے پیر اور ایسے سید ہدایت کی طرف لے جانے والے نہیں ، بلکہ گمراہی کی طرف لے جانے والے ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی نے حضرت خلیفہ اسی الاول کے حوالے سے ایک واقعہ بیان کیا ہے، ان کی ایک ہمشیرہ تھیں، رشتہ دار کسی پیر صاحب کی مرید تھیں، پیر صاحب نے ان کی ہمشیرہ کے دماغ میں یہ بٹھا دیا تھا کہ میرے مریدوں کونمازوں اور عبادتوں کی ضرورت نہیں۔پس میری مریدی اختیار کر لو۔کچھ وظائف میں نے بتا دیئے ہیں وہ کر لو، یہ کافی ہیں، بخشے جاؤ گے۔تو حضرت خلیفہ اول نے انہیں ایک دن کہا کہ پیر صاحب سے پوچھو کہ حساب کتاب والے دن جب خدا تعالیٰ نیکیوں اور عبادتوں کے بارے میں پوچھے گا تو کیا جواب دوں؟ جب فرشتے میرا جنت کا راستہ روکیں گے، میری نیکیوں کے بارے میں سوال ہو گا تو کیا جواب دوں؟ خیر انہوں نے اپنے پیر صاحب سے پوچھا تو کہنے لگے کہ فرشتے تمہارا راستہ روکیں تو کہ دینا کہ میں فلاں پیر اور سید زادے کی ماننے والی ہوں تو وہ تمہارا راستہ صاف کر دیں گے۔اور رہا میرا اسوال ( پیر صاحب کا ) تو جب مجھ سے پوچھیں گے تو میں کہوں گا کہ کربلا کے میدان میں میرے بڑوں نے جو قربانیاں دی ہیں، اُن کو بھول گئے ہو؟ نواسئہ رسول نے جس کی نسل سے میں ہوں، جو قربانی دی ہے، اُس کو بھول گئے ہو؟ تو فرشتے اس بات پر شرمندہ ہو جائیں گے اور راستہ چھوڑ دیں گے اور میں اکڑتا ہوا جنت میں چلا جاؤں گا۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحہ 208)