خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 355 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 355

خطبات مسرور جلد دہم 355 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 جون 2012ء خدا تعالیٰ کا کیا منشاء ہے۔یہ تو اُن کو ابھی معلوم ہو سکتا ہے اگر وہ غور کریں“۔اللہ تعالیٰ کے منشاء کو معلوم کرنا چاہتے ہیں تو غور کریں تو فوری طور پر ہر ایک کو معلوم ہو سکتا ہے۔فرمایا اگر وہ غور کریں کہ وہ اپنے ہر قسم کے منصوبوں اور چالوں میں ناکام و نامراد رہتے ہیں۔پھر آپ فرماتے ہیں۔اگر یہ مخالف نہ ہوتے تو ایسی اعجازی ترقی یہاں بھی نہ ہوتی۔یعنی اس ترقی میں اعجازی رنگ نہ رہتا۔کیونکہ اعجاز تو مقابلہ اور مخالفت سے ہی چمکتا ہے“۔فرمایا ” ایک طرف تو ہمارے مخالفوں کی یہ کوششیں ہیں کہ وہ ہم کو نابود کر دیں۔ہمارا سلام تک نہیں لیتے اور غائبانہ ذکر بھی نفرت سے کرتے ہیں“۔بلکہ اب تو ان نفرتوں کی انتہا ہو چکی ہے۔اور دریدہ دہنی اور مغلظات کی کھلے عام یہ تمام حدود پھلانگ چکے ہیں۔بہر حال یہ مخالفین کا کام ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ دوسری طرف اللہ تعالیٰ حیرت انگیز طریق پر اس جماعت کو بڑھا رہا ہے۔یہ معجزہ نہیں تو کیا ہے؟ فرمایا ” کیا یہ ہمارا فعل ہے یا ہماری جماعت کا ؟ نہیں یہ خدا تعالیٰ کا ایک فعل ہے جس کی تہ اور ستر کو کوئی نہیں جان سکتا۔فرمایا۔یہ خدا کا کام ہے اور اُس کی باتیں عجیب ہوتی ہیں“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ نمبر 454۔ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ) پس خدا تعالی کی اس عجیب تائید و نصرت کے نظارے ہم روز دیکھتے ہیں۔نہ صرف یہ کہ سعید فطرت لوگ جماعت میں داخل ہو رہے ہیں، روزانہ جماعت کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے، جماعت کے نفوس میں بھی برکت پڑ رہی ہے اور اموال میں بھی برکت پڑ رہی ہے۔اور یہ چیز مخالفین احمدیت کو حسد کی آگ میں اور زیادہ جلاتی چلی جارہی ہے۔ہر روز پاکستان سے یہی خبریں آتی ہیں۔نفرتوں اور کینوں اور بغضوں اور حسد نے اس حد تک اندھا کر دیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصاویر کو بگاڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔گالیاں اُس پر لکھی جاتی ہیں۔پاؤں کے نیچے روندا جاتا ہے۔ایک بد بخت نے اپنی دکان کے دروازے پر پائیدان پر یہ تصویر رکھ دی کہ جو آئے وہ پاؤں رکھ کر آئے۔بہر حال یہ تو ان کے کام ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ انتظامیہ میں سے بھی بعض شریف النفس لوگ ایسے ہیں جن کو کھڑا کر دیتا ہے اور اُن میں سے اس موقع پر بھی ایک شخص نے ، انتظامی افسر نے سختی کی اور آپ کی تصویر وہاں سے اٹھوائی۔لیکن ان مخالفین کو یاد رکھنا چاہئے کہ یہ خدا تعالیٰ کا کام ہے۔اللہ تعالیٰ اپنے پیارے کی تائید و نصرت فرماتا ہے اور اُس کی غیرت بھی رکھتا ہے۔اللہ تعالیٰ کی غیرت اپنے پیارے کے ساتھ خبیث فطرتوں کے اس سلوک کا بدلہ لے گی اور ضرور لے گی۔یقیناً یہ لوگ بھی اور ان کے سردار بھی عبرت کا سامان بنیں گے اور یہ لوگ ایک وقت آئے گا نہ صرف تصویریں بلکہ یہ لوگ خود اس سے بڑھ کر روندھے جائیں گے۔احمدی تو صبر اور دعا