خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 356 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 356

خطبات مسر در جلد دہم 356 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 8 جون 2012ء سے کام لے رہے ہیں اور یہی ہماری تعلیم ہے۔جو بھی انہوں نے کرنا ہے، اپنے زعم میں ہمارے دلوں کو چھلنی کرنے کے لئے جو بھی طریقے استعمال کرنے ہیں یہ کر لیں، ہم تو قانون اپنے ہاتھ میں نہیں لیں گے، نہ لیتے ہیں۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا، صبر اور دعا سے کام لیتے ہیں۔اور لیتے رہیں گے انشاء اللہ تعالیٰ۔اور یہی ایک احمدی کی شان ہے۔پس اس شان کو دنیا کے ہر احمدی کو اور خاص طور پر پاکستان کے احمدیوں کو نکھارتے چلے جانے کی ضرورت ہے۔اپنی دعاؤں میں بہت زیادہ شدت پیدا کریں کہ یہی ہمارے ہتھیار ہیں۔اس کے علاوہ کوئی اور ہتھیار ہمارے کام نہیں آسکتا۔بعض لوگ کہہ دیتے ہیں کہ یہ بھی کیا جائے وہ بھی کیا جائے۔اپنی دعاؤں کی تو پہلے انتہا کریں۔بہر حال میں جماعت کی ترقی کے بارے میں بات کر رہا تھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ تائید و نصرت فرماتا ہے اور کس طرح سعید فطرت لوگوں میں ایک انقلاب آ رہا ہے۔جن کو اسلام سے ذرا بھی محبت ہے، جن کو دین سے ذرا بھی لگاؤ ہے وہ بہر حال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کی رہنمائی فرماتا ہے۔لیکن دنیا دار جن کو مذہب سے تو کوئی دلچسپی نہیں ہے، جن میں سے بعض خدا کے وجود پر بھی یقین نہیں کرتے وہ بھی یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ یہ ایسی جماعت ہے جن کے قدم ہر آن ترقی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔یہ لوگ یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ تم جو اسلام کی تعلیم پیش کرتے ہو، یہ تعلیم تو لگتا ہے ایک دن دنیا پر غالب آجائے گی۔پس جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ خدا کا فعل ہے اور یہ اُس کا کام ہے کہ عجیب عجیب باتیں ظاہر ہوتی ہیں۔افراد جماعت اللہ تعالیٰ کی خاطر جماعت کے کام میں انگلی لگاتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ہزاروں ہاتھوں کے کام جتنے اُس کے نتائج پیدا فرما دیتا ہے۔اور یہی چیز ہے جو دشمن کو حسد کی آگ میں اور زیادہ جلاتی ہے۔پس ان لوگوں کو یہ حسد ہمارے سے نہیں ، یہ خدا تعالیٰ کے فعل سے ہے جو ایسے نتائج فرماتا ہے جو جماعت کی تائیدات کے لئے واضح اور بین ثبوت ہیں۔پس ان دشمنوں کو مخالفین کو بھی میں کہتا ہوں، کہ تمہارا مقابلہ خدا تعالیٰ سے ہے اور خدا تعالیٰ سے کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔اس لئے خوف کرو اور خدا سے ڈرو۔پھر خدا تعالیٰ کا مقابلہ کرنے والوں کی خاک کا بھی پتہ نہیں چلتا۔ہم تو اس حسد کے نتیجے میں جو دشمنوں کا، مخالفین کا ہمارے ساتھ ہے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش ہر آن نازل ہوتی دیکھتے ہیں۔اور یہ لوگ جو ہیں مسلمان کہلانے کے باوجود یہ سوچتے نہیں کہ جماعت احمدیہ کے ہر کام کا نتیجہ تو اسلام کی خوبصورت تعلیم کے غیروں پر ظاہر ہونے کی صورت میں نکل رہا