خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 317
خطبات مسر در جلد دہم 317 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 18 مئی 2012ء 2012ء کو بڑی لمبی بیماری کے بعد 74 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔مہروں کی تکلیف کی وجہ سے کچھ عرصہ یہ صاحب فراش تھے۔آپ کے خاندان کا تعلق سیکھواں ضلع گورداسپورانڈیا سے ہے۔مرحوم کے دادا میاں الہی بخش صاحب سیکھوانی رضی اللہ عنہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابی تھے۔آپ کے والد مکرم میاں چراغ دین صاحب نے 1908ء میں حضرت خلیفہ امسیح الاول کے ہاتھ پر بیعت کی تھی اور بعد ازاں سیکھواں سے منتقل ہو کر قادیان آ گئے تھے۔ناصر صاحب قادیان میں اگست 1938ء میں پیدا ہوئے۔کچھ ابتدائی تعلیم قادیان سے حاصل کی ، پھر پاکستان ہجرت کے بعد ٹی آئی سکول چنیوٹ میں میٹرک پاس کیا۔پھر بی۔اے تک تعلیم حاصل کی۔جون 1956 ء سے صدر انجمن احمد یہ ربوہ میں مختلف حیثیتوں سے ، کارکن کی حیثیت سے کام کیا اور دفتر خزانہ میں ، پھر وصیت کے دفتر میں ، پھر اسسٹنٹ سیکرٹری مجلس کار پرداز بھی رہے، پھر 1990ء میں نائب ایڈیٹر کے طور پر ان کا تقرر ہوا۔1993ء سے 2008 ء تک بطور محاسب افسر پراویڈنٹ فنڈ خدمات سرانجام دیتے رہے۔لمبا عرصہ ناظم تنقیح حسابات دفتر جلسہ سالانہ بھی خدمت کی توفیق ملی۔آپ بہت سی خوبیوں کے اور اوصاف کے مالک تھے۔بڑی باقاعدگی سے نمازوں پر جانے والے، بیماری میں بھی میں نے دیکھا ہے مسجد میں ضرور آتے تھے۔تہجد گزار، دعا گو، بہت منکسر المزاج، ہنس مکھ، وفا شعار، مہمان نواز ، اپنے مہمانوں اور ساتھیوں سے بڑے پیار اور شفقت سے پیش آنے والے۔یادداشت اور حافظہ بھی بڑا اچھا تھا۔محلے کے بہت سارے بچوں کو قرآنِ کریم پڑھایا۔خلافت سے بھی بے پناہ محبت اور عقیدت تھی۔موصی تھے اور اپنی زندگی میں ہی تمام جائیداد کا حصہ بھی ادا کر دیا تھا۔اہلیہ کے علاوہ ان کی دو بیٹیاں یادگار ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت کا سلوک فرمائے اور اپنی رضا کی جنتوں میں اعلیٰ مقام دے۔الفضل انٹرنیشنل مورخہ 8 جون تا 14 جون 2012 جلد 19 شماره 23 صفحہ 5 تا 8 )