خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 318 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 318

خطبات مسرور جلد دہم 318 21 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012ء خطبہ جمہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرز مسرور احمد خلیفہ امسح الامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز رخلیفةا فرمودہ مورخہ 25 مئی 2012 ء بمطابق 25 ہجرت 1391 ہجری شمسی بمقام فرینکفرٹ۔جرمنی تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں : میں خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس نے مجھے ایک مخلص اور وفادار جماعت عطا کی ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ جس کام اور مقصد کے لئے میں ان کو بلاتا ہوں نہایت تیزی اور جوش کے ساتھ ایک دوسرے سے پہلے اپنی ہمت اور توفیق کے موافق آگے بڑھتے ہیں اور میں دیکھتا ہوں کہ ان میں ایک صدق اور اخلاص پایا جاتا ہے۔میری طرف سے کسی امر کا ارشاد ہوتا ہے اور وہ تعمیل کے لئے تیار “ فرمایا: ” حقیقت میں کوئی قوم اور جماعت تیار نہیں ہو سکتی جب تک کہ اس میں اپنے امام کی اطاعت اور اتباع کے لئے اس قسم کا جوش اور اخلاص اور وفا کا مادہ نہ ہو۔فرمایا کہ حضرت مسیح کو جو مشکلات اور مصائب اٹھانے پڑے، ان کے عوارض اور اسباب میں سے جماعت کی کمزوری اور بید لی بھی تھی (یعنی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں فرمایا)۔فرماتے ہیں کہ اس کے برخلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہم نے وہ صدق و وفا کا نمونہ دکھایا جس کی نظیر دنیا کی تاریخ میں نہیں مل سکتی۔انہوں نے آپ کی خاطر ہر قسم کا دکھ اٹھا نا سہل سمجھا۔یہاں تک کہ عزیز وطن چھوڑ دیا۔اپنے املاک و اسباب اور احباب سے الگ ہو گئے اور بالآخر آپ کی خاطر جان تک دینے سے تامل اور افسوس نہیں کیا۔یہی صدق اور وفا تھی جس نے ان کو آخر کار با مراد کیا۔اسی طرح میں دیکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری جماعت کو بھی اس کی قدر اور مرتبے کے موافق ایک جوش بخشا ہے اور وہ وفاداری اور صدق کا نمونہ ( ملفوظات جلد اول صفحہ نمبر 223-224 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) دکھاتے ہیں۔