خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 303 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 303

خطبات مسرور جلد دہم 303 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012ء مرحومہ صوم و صلوۃ اور نماز تہجد اور روزانہ تلاوت قرآن کریم کی بہت پابند تھیں۔قادیان میں خالہ رشیدہ کے نام سے معروف یہ خاتون بیگم مرزا وسیم احمد کے ساتھ ہر جگہ ہر خوشی و غمی میں لوگوں کے گھروں میں جایا کرتی تھیں۔میاں وسیم احمد صاحب کی چھوٹی بیٹی نے مجھے لکھا کہ بڑی سادگی سے انہوں نے تمام زندگی گزاری۔ان کے خاوند کو جب انجمن سے ریٹائرمنٹ ہوئی تو اُس وقت ایک بڑی رقم جو پراویڈنٹ فنڈ وغیرہ کی ہوتی ہے وہ لی۔انہوں نے سوچا کہ میں نے کبھی اپنی بیوی کو کچھ بناکے نہیں دیا۔زیور کچھ چوڑیاں بنا کے دیں یا سونے کے ٹاپس بنا کے دیئے اور اسی وقت چند ہفتوں بعد حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے نئے مراکز کی تحریک کی تو آپ نے وہ لا کے دے دیئے اور حضرت صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب کی بیگم کو کہا کہ میں نے ساری عمر سونا نہیں پہنا تو اب پہن کے میں نے کیا کرنا ہے اور یہ رکھ لیں۔اس چندے کا جو انتظام تھا اور جو زیورات وغیرہ آ رہے تھے، وہ ان کے خاوند کے سپر د تھا۔انہوں نے جب دیکھا یہ ٹاپس میری بیوی کی طرف سے آئے ہیں تو انہوں نے انتظامیہ سے کہہ کے خود قیمت ادا کر دی۔کچھ رقم اُن کے پاس تھی کہ میں نے بیوی کو بنا کے دیئے تھے اور قیمت ادا کر کے پھر واپس اپنی بیوی کو دے دیئے۔چند ہفتوں کے بعد دوبارہ حضرت خلیفہ اسیح الرابع نے تحریک کی تو پھر انہوں نے وہی ٹاپس پیش کر دیئے۔اُس وقت ان کے خاوند کے پاس بھی گنجائش نہیں تھی۔تو بہر حال جو انہوں نے کہا تھا کہ ساری عمر میں نے کچھ سونا نہیں پہنا۔کبھی نہیں پہنا تو اب بھی نہیں پہنوں گی۔اللہ کی راہ میں دے دیا۔دوسرا جنازه مکرمه نذر النساء صاحبہ اہلیہ مکرم محمد سیف خان صاحب انڈیا کا ہے۔یہ 9 مئی کو 75 سال کی عمر میں وفات پاگئیں۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان کے خاوند نے 1962ء میں قبول احمدیت کا شرف حاصل کیا۔بڑے مخلص تھے۔مخالفت کے باوجود یہ دونوں احمدیت پر قائم ر۔نمازوں کی پابند، ملنسار، غریب پرور خاتون تھیں۔سادگی سے زندگی گزاری۔ایک درجن سے زائد یتیم اور نادار بچوں کی کفالت اور پرورش کی۔مرکزی نمائندگان کی بڑی خاطر مدارات کیا کرتی تھیں۔موصیہ تھیں۔بہشتی مقبرہ قادیان میں تدفین ہوئی ہے۔آپ کے تین بیٹے سلسلہ کے خادم اور واقف زندگی ہیں۔بڑے بیٹے سیم خان صاحب قادیان میں ناظر امور عامہ ہیں۔دوسرے بیٹے کلیم خان صاحب مبلغ ہیں۔اسی طرح وسیم خان صاحب ہیں۔یہ سب واقفین زندگی ہیں۔اللہ تعالیٰ ان ہر دو مرحومین کے درجات بلند فرمائے اور ان کی نسلوں کو بھی ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہمیشہ وفا کا تعلق اور اخلاص کا تعلق رہے (الفضل انٹر نیشنل مورخہ یکم جون تا 7 جون 2012 جلد 19 شماره 22 صفحہ 5 تا9)