خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 296
خطبات مسرور جلد دہم 296 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 مئی 2012ء میاں غلام رسول ! کوئی امرتسر کی باتیں بتائیے۔والد صاحب نے کہا کہ حضور! لوگ درمیان میں اور باتیں شروع کر دیتے ہیں۔( جب میں غریب آدمی بولنا شروع کروں گا تو اور لوگ آجائیں گے۔دوسری باتیں شروع کر دیں گے۔میری باتیں بیچ میں رہ جائیں گی ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ آج تمہاری ہی بات ہو گی اور کسی کی نہیں ہوگی۔حضور اُس دن جس طرف محلہ دارالانوار ہے، سیر کے لئے تشریف لے گئے ، جہاں اب حضرت صاحب کی کوٹھی بھی ہے۔جب وہاں پہنچے تو خواجہ کمال الدین صاحب کے سسر خلیفہ رجب الدین صاحب نے کشمیری زبان میں کہا کہ اب خاموش ہو جاؤ۔ہم نے بھی باتیں کرنی ہیں۔حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ آج میاں غلام رسول کی بات ہوگی اور کسی کی نہیں ہوگی۔اُن کو بھی چپ کرا دیا اور باتیں ملانوں کے متعلق ہوتی رہی تھیں۔مجھے یاد ہے کہ والد صاحب نے سنایا کہ میں حضور کے ساتھ امرتسر کے ایک ملاں کی بات کر رہا تھا کہ اس نے مجھے کہا کہ تم مرزا صاحب کو چھوڑ دو۔ہم تمہیں بہت ساروپیہ جمع کر دیں گے۔مگر میں نے کہا ( سوچ ہے ناں، انہوں نے جواب دیا ) کہ فلاں سوداگر نے ایک عورت رکھی ہوئی ہے مگر وہ اُس عورت کو نہیں چھوڑ سکتا تو میں خدا کے نبی کو کیسے چھوڑ سکتا ہوں؟ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ رجسٹر نمبر 11 صفحہ 39-40۔روایت حضرت میاں عبدالغفار صاحب جراح ) یعنی دنیا دار اپنے دنیاوی عشق کی خاطر دنیا بھی برباد کر رہا ہے اور آخرت بھی برباد کر رہا ہے۔بدنامی بھی ہو رہی ہے تو میں تو خدا کی محبت کی خاطر خدا کے نبی کے تعلق اور عشق میں گرفتار ہوں ، اس کو کس طرح چھوڑ دوں۔اسی سے تو میری دنیا بھی سنورنی ہے اور میری آخرت بھی سنورنی ہے۔) حضرت شیخ زین العابدین صاحب بیان کرتے ہیں کہ: ایک میرے بھائی مہر علی صاحب آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے۔وہ بیمار ہو گئے۔چھ ماہ تک دست آتے رہے۔ہم علاج کرتے رہے۔جب کوئی افاقہ نہ ہوا اور ہم بالکل ناامید ہو گئے تو اُس کو قادیان لے آئے۔حضرت صاحب کو الہام ہو چکا تھا کہ میں اس جگہ ایک پیارے بچے کا جنازہ پڑھوں گا اور حضور اس الہام کو اپنے بچوں میں سے ہی کسی ایک کے متعلق سمجھا کرتے تھے۔مگر مہر علی کو یہاں لایا گیا تو حضور نے اُس کا مہینہ ڈیڑھ مہینہ علاج کیا۔کچھ ٹھیک ہو گیا مگر حضور کو الہام ہوا کہ یہ بچہ بچہ نہیں سکے گا۔اس پر آپ نے حافظ حامد علی کو کہا کہ اس بچے کو یعنی اپنے بھائی کو گھر لے جاؤ۔یہ بچ نہیں سکے گا۔اور اگر یہاں فوت ہوا تو تمہارے رشتہ داروں کو یہاں آنے کی تکلیف ہو گی۔ہم نے ڈولی تیار کروائی۔اُسے ڈولی میں بٹھایا اور بازار تک لے گئے۔مگر اُس نے کہا کہ میں ہرگز واپس نہیں جاؤں گا۔بارہ تیرہ سال کا بچہ تھا۔اُس بچے نے کہا کہ مرنا ہے تو یہیں مرنا ہے۔میں تو