خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 267 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 267

خطبات مسرور جلد دہم 267 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012 ء ساتھ ہے۔میں جائزہ لے رہا تھا، دیکھ رہا تھا کہ 2003ء میں جب مسجد بیت الفتوح کا افتتاح ہوا ہے تو اس سے پہلے با قاعدہ مسجد صرف ایک مسجد مسجد فضل تھی۔اُس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جماعت یو کے کو چودہ نئی مساجد بنانے کی توفیق عطا فرمائی جو باقاعدہ مساجد ہیں۔اسی طرح گزشتہ سات آٹھ سالوں میں یورپ میں جو پہلے تیرہ مساجد تھیں اب تقریباً ستاون (57) ہیں۔تقریباً اس لئے کہہ رہا ہوں کہ ایک مکمل ہونے کے اپنے آخری مرحلے میں ہے۔ستاون مساجد تیار ہوگئی ہیں اور یورپ کے مختلف ممالک میں چوالیس (44) مساجد کا سات آٹھ سال میں اضافہ ہوا ہے۔جس میں جرمنی میں سب سے زیادہ ہیں۔لیکن ان کی خوبصورتی ان کی تعمیر سے نہیں ، ان کے نمازیوں سے ہے۔اس لئے میں آج پھر ان یورپین ممالک کے احمدیوں کو بھی کہتا ہوں کہ ہمارا فخر مساجد بنانے میں نہیں۔اس کی پیشگوئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی تھی کہ ایک وقت میں مساجد بنانے پر فخر کیا جائے گا لیکن یہ فخر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کی جماعت سے منسوب ہونے والوں کا کام نہیں ہے۔دوسرے مسلمان بیشک یہ فخر کرتے پھریں۔ہمارا تو مقصد تب پورا ہو گا جب ہماری ہر مسجد کی آبادی اتنی بڑھ جائے کہ وہ چھوٹی پڑ جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔میں اس وقت اس عاشق صادق سے براہِ راست فیض پانے والے چند لوگوں کی عبادت کے لئے تڑپ اور ان کے معیار کے کچھ واقعات کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں جو میں نے روایات میں سے لئے ہیں۔نمازوں میں محویت کا عالم ہے۔یہ واقعہ سنیں۔حضرت جان محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولد عبد الغفار صاحب ڈسکوی فرماتے ہیں کہ مغرب کی نماز مسجد مبارک کی چھت پر ادا ہونے کے وقت ( حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں قادیان میں ) مسجد مبارک کے محراب کے مغرب محسن خانہ مرزا نظام الدین صاحب وغیرہ میں انہوں نے مع دیگر آٹھ نو اشخاص مجلس لگا رکھی تھی اور حقہ نوشی ہو رہی تھی یہ مخالف تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رشتہ دار تھے لیکن مخالفت میں بہت زیادہ بڑھے ہوئے تھے۔دین سے ان کی بالکل بے رغبتی تھی۔بلکہ خدا تعالیٰ سے انکاری تھے ) وہ کہتے ہیں انہوں نے مجلس لگائی ہوئی تھی اس میں حقہ نوشی ہو رہی تھی ، صفوں پر شراب بھی پڑی ہوئی تھی اور چار پائیوں پر اہل مجلس بیٹھے ہوئے تھے۔تو جب ہم نماز پڑھنے لگے تو جتنے یہ لوگ بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے تکبیر اولیٰ کے ساتھ ہی سارنگی اور طبلے پر چوٹ لگائی اور مراثیوں نے گانا شروع کر دیا تاکہ مسجد میں نمازی ڈسٹرب ہوں۔(لیکن کہتے ہیں ) مگر ہماری نماز میں غضب کی محویت