خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 268
خطبات مسر در جلد دہم 268 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012 ء تھی۔اس طرف خیال بھی نہیں جاتا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔وہ باجے بجاتے رہے لیکن ہمیں اپنی عبادتوں سے نہ روک سکے یا توجہ نہ ہٹا سکے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 48) حضرت حاکم علی صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی بیعت کے بعد کی تبدیلی کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ اس کے بعد ( بیعت کے بعد ) محبت نے مجھے اس قدر دیوانہ کر دیا کہ کوئی مہینہ ایسانہ ہوتا کہ میں حاضر نہ ہوتا۔پس میری زندگی گویا مسیح موعود علیہ السلام کی زیارت کے لئے تھی۔میں نے اپنے گھر کے پاس ایک الگ چھوٹی سی مسجد بنالی اور میں تہجد کی نماز کے وقت اُس مسجد میں چلا جاتا اور عشاء کی نماز پڑھ کر میں مسجد سے آتا۔اتنا وقت گویا 20 یا 22 گھنٹے مسجد میں رہتا تھا اور روزہ رکھتا تھا اور ایک وقت (میں) کھانا کھاتا تھا لیکن کوئی بھوک پیاس نہ لگتی تھی۔بے تکلف میں اتنا وقت قرآن شریف نماز و دعا میں صرف کرتا تھا اور نہایت خوش رہتا تھا اور حالت ایسی ہو گئی کہ کسی معاملے کے متعلق دعا کروں اور توجہ کروں تو اُسی وقت اُس کی صحیح خبر مل جاتی یعنی بذریعہ کشف۔اس وجہ سے مجھے خدا تعالیٰ کے ساتھ اور قرآن شریف کے ساتھ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ محبت بڑھ گئی اور مسیح موعود علیہ السلام پر میرا ایسا ایمان مضبوط ہوا جولر ز ہ نہیں کھا سکتا تھا۔(رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 364) بہت سارے لوگ ہیں۔یہاں بھی آئے ہوئے ہیں۔اسرائیلم لینے والے ہیں۔بڑی عمر کے ہیں۔فارغ بیٹھے رہتے ہیں۔اُن کو چاہئے کہ بجائے وقت ضائع کرنے کے اپنی عبادتوں کی طرف توجہ کریں۔یہ عبادتوں کا معیار ہے جو ہمارے لئے نمونہ ہے۔پھر حضرت میر مهدی حسین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ مسجد مبارک کے اندر اول ایام میں تین خانے تھے۔یعنی چھوٹی سی مسجد تھی ، تین دروں کے درمیان تھی۔ہر ایک خانے میں دو صفیں کھڑی ہوسکتی تھیں۔آگے پیچھے۔اور ایک صف میں چھ آدمی آسکتے تھے۔مسجد سے باہر دائیں جانب ایک چھوٹا سا صحن ہوتا تھا جو اس وقت حضرت ام المومنین علیہا السلام کی رہائشگاہ ہے۔اس میں ملک غلام حسین صاحب نان پز ( نان پکانے والا ) اور محمد اکبر خان صاحب سنوری مرحوم علی الترتیب روٹیاں اور سالن لئے بیٹھے تھے۔مجھے ملک صاحب نے پہلے ایک چھوٹی سی پلیٹ میں چاول نمکین ( کھانے کا ذکر کرتے ہیں ) ڈال کے دیا۔روٹیاں دیں۔کہتے ہیں میں نے پلیٹ سے دو تین لقمے لئے تھے کہ حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے تکبیر کہلا کر نماز شروع کر دی۔میں نے جلدی سے کھانا رکھ دیا اور مسجد میں داخل ہونے لگا تو نان پز جو تھے انہوں نے ذراسخت لہجے میں کہا ( روٹی دے رہے تھے وہ ) کہ میاں! روٹی کھالے۔نماز بعد میں