خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 260
خطبات مسر در جلد دہم 260 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012ء پر بادشاہوں نے سونے کا پانی بھی پھر وایا۔لیکن یہ اُن کا حسن نہیں ہے، نہ یہ سونے کا پانی ، نہ ینقش و نگار۔مساجد کا حسن تو اُن کی آبادی سے ہے۔ایسی آبادی جو خالصہ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے ہو۔حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک جگہ ذکر کیا، غالباً مصر کا ذکر ہے کہ میں ایک عرب ملک میں ایک بہت بڑی اور خوبصورت مسجد میں جب گیا تو دیکھا کہ چار پانچ نمازی ایک کونے میں نماز پڑھ رہے تھے۔جب اُن سے پوچھا کہ یہ کیا قصہ ہے؟ تو مسجد کا امام جواُن کو نماز پڑھا رہا تھا، اُس نے کہا کہ لوگ نماز کے لئے نہیں آتے اور میں شرم کی وجہ سے محراب میں کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھا تا کہ کوئی نیا آنے والا یہ دیکھ کر کیا کہے گا کہ اتنی بڑی اور خوبصورت مسجد ہے اور نمازی چار پانچ ہیں۔اس لئے ہم کونے میں نماز پڑھ لیتے ہیں تا کہ لوگ سمجھیں کہ اصل نماز ہوگئی ہے اور یہ بعد میں آنے والے نماز پڑھ رہے (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 5 صفحه 357) لیکن دوسری صورت بھی ہے کہ مسجدوں میں لوگ جاتے بھی ہیں ، کافی آبادی ہوتی ہے لیکن دل عموماً اُس روح سے خالی ہوتے ہیں جو ایک مسجد میں جانے والی کی ہونی چاہئے۔دنیا داری نمازوں کے دوران بھی غالب رہتی ہے۔تو جہ اللہ تعالی کی طرف خالص نہیں ہوتی۔پس ہمیں ہمیشہ یا درکھنا چاہئے کہ ہم جب مسجد بناتے ہیں یا بنا ئیں تو خدا تعالیٰ کے حضور جھکنے اور اُس کی رضا کے حصول کے لئے بنانے والے ہوں اور مسجد بنانے کے لئے جو قربانی کی ہے، اُس پر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کریں نہ کہ کسی قسم کا فخر۔کیونکہ ہماری یہ جو قربانی ہے، جو ہم کرتے ہیں، یہ اُس قربانی کا لاکھواں حصہ بھی نہیں ہے بلکہ اس سے بھی بہت کم ہے جو حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی تھی۔صرف مال کی قربانی ہم کرتے ہیں اور وہ بھی عموماً اپنے وسائل کے مطابق۔یقیناً آج کل کی دنیا میں یہ بھی بہت بڑی قربانی ہے کہ مالی قربانی کی جائے ، نیک مقصد کے لئے قربانی کی جائے ، اپنی ترجیحات بدل کر مالی قربانی کی جائے اور مسجدوں کی تعمیر کرنا ایک قابل تعریف کام ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت مواقع پر اس کی طرف توجہ دلائی ہے۔اللہ تعالیٰ کے حضور ایسے لوگ جزا پانے والے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کو مغربی ممالک میں اس طرف بہت توجہ پیدا ہوئی ہے اور مساجد بن رہی ہیں اور اپنی ترجیحات بعضوں نے تو اس حد تک بدل لی ہیں کہ زائد پیسے میں سے نہیں بلکہ اپنے آپ کو مشکل میں ڈال کر پھر قربانیاں کرتے ہیں۔لیکن پھر بھی ہمیں یادرکھنا چاہئے کہ ہمیں کبھی کوئی فخر نہیں ہونا چاہئے۔اس مسجد کی تعمیر پر تقریباً بارہ لاکھ پاؤنڈ خرچ ہوئے ہیں یعنی ایک اعشاریہ دو ملین پاؤنڈ اور