خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 261 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 261

خطبات مسرور جلد دہم 261 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012ء جماعت نے یہاں قریباً اتنی رقم کے وعدے کئے اور ادائیگی بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو رہی ہے۔پچھہتر (75) فیصد ادائیگی کر بھی دی۔بعض نے بڑی بڑی قربانیاں بھی دیں۔میں دیکھ رہا تھا کہ چوراسی (84) ہزار پاؤنڈ یا اٹھہتر (78) ہزار پاؤنڈ تک بھی ایک ایک آدمی نے قربانی دی ہے اور ایسے افراد بھی ہیں جنہوں نے پندرہ ہیں ہزارہ تیس ہزار کی رقمیں دیں۔تقریباً گیارہ آدمیوں کے گل وعدے میں دیکھ رہا تھا کہ تین لاکھ سے اوپر بنتے ہیں۔تو یہ بہت بڑی قربانی ہے جو آجکل کے حالات میں جماعت کے افراد کرتے ہیں۔لیکن پھر بھی ہر قربانی جو ہے وہ ہمیں عاجزی کی طرف متوجہ کرنے والی ہونی چاہئے۔کیونکہ اس سب کے باوجود اللہ تعالیٰ نے جو نمونہ ہمارے سامنے پیش فرما یا وہ یہ ہے کہ ہماری قربانیاں حقیر ہیں اُن کی کوئی حیثیت نہیں۔دوسرے ان قربانیوں کا فائدہ تبھی ہے جب اس گھر کی آبادی بھی ہو۔ایک وہ بے آب و گیاہ جگہ تھی۔بیابان تھا جہاں آبادی نہیں تھی اور وہاں اللہ تعالیٰ کا گھر بنایا گیا اور ان ممالک میں روحانی لحاظ سے یہ بنجر علاقے ہیں۔ان علاقوں کو بھی آباد کرنا ہے اور سرسبز بنانا ہے اور اسی مقصد کے لئے ہم یورپ میں مساجد تعمیر کر رہے ہیں۔پس یہ بہت بڑا کام ہے جس کو ہمیں ہمیشہ اپنے ذہن میں رکھنا چاہئے۔صرف جمعوں کی آبادی سے ہماری مسجد میں آباد نہیں ہوسکتیں بلکہ نمازوں کی حاضری بھی ہو۔اور آج جب اس مسجد کا افتتاح ہم کر رہے ہیں تو یہ دعا کریں کہ رَبَّنَا تَقَبَّلُ مِنَّا إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ - پس ہماری مالی قربانیاں اُس وقت قبولیت کا درجہ پائیں گی جب ہم خدا تعالیٰ سے یہ عہد بھی کریں اور دعا بھی کریں کہ ان قربانیوں کو قبول فرماتے ہوئے ہماری روحانی ترقی کے بھی سامان فرما اور اس مسجد کو آباد ر کھنے کی توفیق بھی عطا فرما۔کیونکہ تو جانتا ہے کہ خالصتاً تیری عبادت کے لئے یہ مسجد کی تعمیر ہو رہی ہے اور پھر اس علاقے میں ایسے لوگوں کی آبادی کر جو روحانیت میں ترقی کرنے والے ہوں۔کیونکہ تیرے ذکر سے پررکھنے کے لئے یہ مسجد تعمیر کی گئی ہے۔پس ہماری قربانی قبول کر کے ہمیں اُس روحانی مقام پر پہنچا جو تیرے قرب کا ذریعہ بنائے۔تا کہ تیرے انعامات حاصل کرتے ہوئے ہم تیری جنتوں کے وارث بن جائیں۔احادیث میں آتا ہے۔مسند احمد بن حنبل کی ایک حدیث ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے روز رب عز و جل فرمائے گا کہ مجمع والے عنقریب جان لیں گے کہ کون بزرگی اور شرف والے ہیں۔کسی نے پوچھا کہ یارسول اللہ! بزرگی اور شرف والے کون ہیں؟ آپ نے فرما یا مساجد میں ذکر