خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 259 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 259

خطبات مسرور جلد دہم 259 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 27 اپریل 2012 ء حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کی تھی۔یعنی ہر پتھر جو خانہ کعبہ کی دیواروں پر چنا جار ہا تھا وہ اس بات کی طرف بھی توجہ دلا رہا تھا کہ اب اس گھر کے مکمل ہونے کے بعد باپ نے بیٹے اور اُس سے پیدا ہونے والی نسل کو اس بے آب و گیاہ جگہ میں ہمیشہ کے لئے آباد کرنا ہے۔اور بیٹے کو توجہ دلا رہا تھا کہ تم نے اب اس بے آب و گیاہ جگہ میں اس گھر کی رونق قائم کرنے کے لئے یہیں رہنا ہے۔ان دونوں بزرگوں کو ، اللہ تعالیٰ کے ان فرستادوں کو خدا تعالیٰ کے وعدوں پر یہ تو یقین تھا کہ ایک روز اس گھر نے تمام دنیا کا محور بننا ہے مگر یہ کیا پتہ تھا کہ یہ سب کچھ کب ہو گا ؟ اُس وقت تو صرف قربانی اور صرف قربانی ہی نظر آرہی تھی لیکن اس کے باوجود عاجزی کی انتہا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کر رہے ہیں کہ ہم تیرے گھر کی تعمیر کا جو یہ کام کر رہے ہیں، یہ تیرے ہی فضل سے ہے۔پس ہماری اس قربانی کو قبول فرمالے۔کوئی اظہار بڑائی نہیں کہ ہم نے جو کام کیا ہے یہ ہمارا حق بنتا ہے کہ اس کا بدلہ ہمیں ملے اور جلد ملے۔بلکہ اے خدا! اے سمیع وعلیم خدا! جو دعاؤں کا سننے والا ہے، تو ہماری دعاؤں کو سن لے۔ہمارے پاس جو قربانی کرنے کے لئے تھا وہ کر دیا اور آئندہ بھی عہد کرتے ہیں کہ قربانی کریں گے بلکہ ہم تو چاہتے ہیں کہ ہماری نسلیں بھی اس قربانی میں شامل ہوں۔یہ وہ دعا تھی جو ان دو بزرگوں نے کی۔پھر یہ اللہ تعالیٰ کو مخاطب کر کے کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے دل کی حقیقت تیرے سامنے رکھ دی۔تو علیم ہے جانتا ہے کہ جو کچھ ہم کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں ، صرف اور صرف تیری رضا کے حصول کے لئے کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں۔تو ہماری اس قربانی کو قبول کر کے اب جلدا سے ایسا گھر بنادے جو تیرا گھر ہو اور تیرا گھر ہونے کی برکت سے یہ بیابان آباد ہو جائے۔ہم تو تیرے حکم سے جو سمجھے اُس کی ظاہری تعمیل میں اس گھر کی تعمیر ہوگئی تا کہ آبادی کا مرکز بن جائے لیکن اس کی حقیقی آبادی اے اللہ! تیرے فضل پر منحصر ہے۔اس گھر کو ظاہری طور پر آباد کرنے والوں کو بھی وہ بصیرت اور بصارت عطا فرما جو تجھ تک پہنچانے والی ہو اور روحانیت میں بڑھانے والی ہو۔پس یہ وہ روح تھی جس کی تتبع میں مسلمانوں کی مساجد تعمیر ہوتی ہیں اور ہونی چاہئیں۔ورنہ خوبصورت عمارات تو کوئی چیز نہیں ہیں۔بڑی خوبصورت مساجد بنتی ہیں لیکن اُن میں روح مفقود ہوتی ہے۔جو مقصد ہے وہ اُن میں نہیں پایا جاتا۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو فرمایا ہے کہ مساجد میں نقش و نگار نہیں ہونے چاہئیں۔(سنن ابن ماجه کتاب المساجد والجماعة باب تشييد المساجد حدیث (741) جس طرح دوسرے مذاہب والوں نے اپنی عبادت گاہوں میں نقش و نگار بنائے ہوتے ہیں۔لیکن بہت سی مساجد ہمیں نقش و نگار والی نظر آتی ہیں جو بادشاہوں نے بنائیں، امراء نے بنائیں، بلکہ بعض