خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 249
خطبات مسرور جلد دہم 249 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء بیٹی کے سسرال میں جا کر روٹی کھانا) اُس کے لئے موت سے بدتر تھا۔مہتاب خان مذکور کی عمر اُس وقت ساٹھ سال سے کچھ اوپر ہوگی اور جائیداد غیر منقولہ صرف ڈیڑھ گھماؤں کے قریب باقی ہو گی۔( یہ ڈیڑھ گھماؤں ایکٹر سے بھی کم ہوتا ہے ) ایک دن صبح کے وقت نماز فجر کے بعد میں ایک مسجد میں قرآن کریم کی تلاوت کر رہا تھا کہ وہ میرے پاس آیا اور کہا کہ دیکھ میری حالت کیا ہے؟ اور کعبے کی طرف ہاتھ کر کے کہنے لگا کہ مجھے کوئی مرزا صاحب سے عناد نہیں ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد 6 صفحہ 126-127) کوئی دشمنی نہیں ہے۔یہ حالت ہوئی تو تب اُس کو خیال بھی پیدا ہوا۔) صحابہ کی استقامت کے یہ چند واقعات ہیں۔اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ایسی جماعت عطا فرمائی ہے جو ثابت قدمی اور استقامت میں آج بھی غیر معمولی نمونے دکھانے والی ہے۔کئی خطوط مجھے آتے ہیں، کئی لوگ مجھے ملتے ہیں اور اپنے واقعات سناتے ہیں۔یہ نمونے دکھانے والے جہاں مرد ہیں، وہاں عورتیں بھی ہیں۔پس جو جاگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی قوت قدسی کی وجہ سے صحابہ میں لگی تھی اللہ تعالیٰ نے اب تک اُسے جاری فرمایا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ اُن صحابہ کے بھی درجات بلند فرمائے جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کو قبول فرمایا اور استقامت سے ثابت قدمی دکھائی اور اُن کی اولادوں کو بھی استقامت بخشے۔اور اب شامل ہونے والوں، جو ہم میں موجود ہیں اور آئندہ شامل ہونے والوں کے ایمانوں کو بھی قوت اور طاقت بخشے اور استقامت بخشے۔استقامت کے علاوہ بھی کچھ واقعات ہیں جو میں پیش کرتا ہوں۔ان میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کی جو معجزانہ حفاظت فرمائی اور اللہ تعالیٰ کا اُن سے جو خاص سلوک تھا، اُس کا ذکر ہے جو یقیناً ہمارے لئے از دیا دایمان کا باعث بنتا ہے۔حضرت مرزا برکت علی صاحب بیان فرماتے ہیں کہ بندہ 14اپریل 1905ء کے زلزلہ عظیم میں بھا کسو ضلع کانگڑہ بمقام ایر دھرم سالہ ایک مکان کے نیچے دب گیا اور بصد مشکل باہر نکالا گیا تھا۔اس موقع کے چشم دید گواه بابو گلاب دین صاحب اوورسیئر پنشر جو ان ایام میں وہاں پر بطور سب ڈویژنل آفیسر تعینات تھے، آج سیالکوٹ میں زندہ موجود ہیں۔اس واقعہ کے ایک دو ماہ قبل جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس زلزلہ عظیم کی پیشگوئی شائع فرمائی تھی۔(اُس سے چند ماہ پہلے اس زلزلہ کی پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی تھی) کہتے ہیں۔بندہ خود بھی قادیان دارالامان موجود تھا