خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 248 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 248

خطبات مسرور جلد دہم 248 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012 ء دل اور یہ منہ اس صداقت سے اب پھر نہیں سکتے۔( کہتے ہیں ) دوسری رات کو پھر خواب میں دیکھتا ہوں کہ پولیس نے میرے مکان کا احاطہ کر رکھا ہے۔( یہ دشمنی تو ختم نہیں ہو رہی تھی۔روز اُن کے خلاف جلسے جلوس ہو رہے تھے۔اور پولیس والے کہہ رہے ہیں کہ پبلک سے تو یہ شخص بچ گیا مگر چونکہ اس نے ایک قسم کا فساد اور بدامنی پھیلا رکھی ہے، اب حکومت اُس کو اپنے انتظام سے دبائے گی اور اگر یہ باز نہ آیا تو اس کو جان سے مار دیا جائے گا۔پولیس کے اس حملے اور گھیرے سے میں (خواب میں ) سخت پریشان ہوا۔( کہتے ہیں) مگر اچانک پھر کل رات کی طرح میرے آقا سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام مجھ پر ظاہر ہوئے اور اسی طرح میرے دونوں بازو اپنی شفقت سے پکڑے۔میرا منہ آسمان کی طرف کیا اور فرمایا کہ آسمان کی طرف اُڑ جاؤ۔چنانچہ میں پھر کل کی طرح زمین سے آسمان کو اُڑنے لگا اور پولیس وغیرہ کے حملے سے نجات پا گیا۔الحمد لله۔چنانچہ دونوں رویا میں میرا ایمان میخ آہن کی طرح مضبوط اور پہاڑ کی چٹان کی طرح راسخ ہو گیا۔اور حضور پرنور کی صداقت ایسے رنگ سے دل میں گڑ گئی کہ کاٹے کٹے نہ توڑے ٹوٹے۔(اب اس کو کوئی نہ توڑ سکتا ہے نہ کاٹ سکتا ہے۔( الحَمدُ لِلهِ الْحَمْدُ لِلهِ ثُمَّ الْحَمْدُ لِلهِ - ) کہتے ہیں کہ ) اب دل میں ایک جوش اور اُمنگ پیدا ہوئی کہ اس فرستادہ الہی کی زیارت سے بھی مشرف ہوسکوں۔( اُس وقت تک آپ نے دیکھا نہیں تھا) چنانچہ میں نے حضرت کے حضور خط لکھا جس کے جواب میں حضور نے رقم فرمایا کہ میاں عبدالمجید آپ فوراً قادیان چلے آئیں۔“ تو اللہ تعالیٰ اس طرح بھی ایمانوں کو مضبوط کرتا ہے اور یہ کیفیت آج بھی بہت سارے لکھنے والے لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اُن میں پیدا کرتا (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد 12 صفحہ 313,314) حضرت امیر خان صاحب کی روایت ہے۔اپنا واقعہ لکھتے ہیں کہ ”جب میں بیعت کر کے دارالامان قادیان سے واپس اپنے گاؤں اہرا نہ آیا تو مسمی مہتاب خان جو ایک کھڑ پینچ تھا ( اور کچھ بڑا اپنے آپ کو سمجھتا تھا ) اور کچھ معمولی نوشت و خواند کی وجہ سے پرلے درجے کا مغرور تھا ( یعنی معمولی پڑھا لکھا آدمی تھا۔اور ہمہ دانی کا مدعی تھا۔( یعنی بہت کچھ اب اُس کو آتا ہے۔ہر چیز میں اپنے آپ کو ماہر سمجھتا تھا) میری مخالفت پر تل گیا اور زبان درازی میں حد سے گزر گیا۔مگر میں صبر سے کام لیتا رہا۔آخر کا ر اُس کے کنبے میں طاعون پھوٹ پڑی اور اس قدر تباہی ہوئی کہ بہو اور بھا بھی اور جوان لڑکا جو ایک ہی تھا وہ سب کے سب چند دنوں میں پلیگ کا شکار ہو گئے اور کوئی روٹی پکانے والا بھی نہ رہا۔اُس کی ایک لڑکی جونز دیک ہی دوسرے گاؤں میں بیاہی ہوئی تھی، اُس کے جا کر وہ روزانہ روٹی کھا تا مگر شریکوں کی روٹی کھانا، (یعنی ہے۔