خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 247 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 247

خطبات مسرور جلد دہم 247 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 20 اپریل 2012ء صرف یہ عاجز تھا۔( یعنی حضرت میاں عبدالمجید خان صاحب۔اُن کو ساری دشمنی کا نشانہ بنایا۔) انہوں نے میرے خلاف بہت سی تجاویز کیں۔بائیکاٹ کا خوف دلایا۔پولیس تک کو میرے خلاف بھڑ کا یا اور مجھے ایک فسادی اور باغی کے نام سے یاد کر کے جاہل لوگوں کو میرے خلاف اس رنگ میں بھڑ کا یا کہ میری جان کے لالے پڑ گئے۔اُن حالات سے متاثر ہو کر ( اللہ تعالیٰ کا یہ سلوک بیان کرتے ہیں کہ کیا تھا؟ ) کہ میں ایک رات جنگل میں نکل گیا۔قبلہ رخ ہو کر دست بستہ کھڑا ہو گیا اور اپنے طریق سے سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عالم خیال میں مخاطب کر کے عرض کیا کہ حضور اس خطرناک موقع میں دست گیری اور رہنمائی کا کوئی سامان فرمائیں۔اور میں نے یہ التجا اور دعا اس الحاح اور سوز و گداز سے کی اور رو رو کر عرض حال اور مشکل پیش آمدہ کا ذکر کیا کہ اللہ تعالیٰ نے میری آہ و بکا کو سنا۔( یہاں میں وضاحت کر دوں کہ یہ کوئی شرک والی حالت نہیں تھی جس طرح پیروں فقیروں پہ جا کے مانگا جاتا ہے، سجدے کئے جاتے ہیں یا اُن کے حوالے دیئے جاتے ہیں۔بہر حال ان کا اپنا ایک انداز تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ذہن میں لائے کہ ظلم سے اللہ تعالیٰ بچائے۔اس بات کی وضاحت کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے نہیں مانگا جارہا تھا، اللہ تعالیٰ سے ہی مانگا جا رہا تھا، اُن کا یہ فقرہ ہے جو اس کی وضاحت کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے میری آہ و بکا کو سنا۔حضرت مسیح موعود کا حوالہ دیا تو یہ نہیں کہا کہ حضرت مسیح موعود نے سنا۔جس طرح ہمارے ہاں عام طور پر لوگ پیروں فقیروں کی قبروں پر جا کر پھر یہ کہتے ہیں کہ فلاں پیر صاحب نے ہماری بات سن لی اور ہمیں فلاں چیز عنایت کر دی۔فرمایا اللہ تعالیٰ نے میری آہ و بکا کوسنا۔خیر ) رات اُسی حالت میں اور فکر میں سو گیا۔(خواب میں کیا دیکھتا ہوں کہ مخالفوں نے میرے مکان کا گھیرا کر لیا ہے۔اور چاروں طرف سے آواز میں کس رہے ہیں کہ اس شخص کو اب جان ہی سے مارڈالو۔اس اثناء میں سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ اصلوۃ والسلام مجھ پر نمودار ہوئے اور میرے بازؤوں کو اپنے دستہائے مبارک سے پکڑ کر میرا منہ آسمان کی طرف کرایا اور فرمایا کہ آسمان کی طرف اُڑ جاؤ۔چنانچہ حضور کی قوت قدسیہ ہی کے سہارے میرے جیسا بے پر انسان زمین سے اُڑ کر آسمان کی طرف چلا گیا۔مخالفین اپنے ارادے میں نا کام حیران کھڑے دیکھتے رہے۔اُس وقت خواب کے بعد میری آنکھ خوشی کے مارے کھل گئی اور مجھے یقین کامل ہو گیا کہ واقعی سید نا حضرت اقدس خدا کے ایک راستباز اور صادق فرستادے ہیں۔چنانچہ دوسرے روز صبح کو جب پھر مخالف لوگ میرے گرد جمع ہوئے تو میں نے اُن سے صاف کہہ دیا کہ خدا نے اپنی قدرت نمائی سے اب مجھے وہ طاقت بخش دی ہے کہ اگر تم لوگ آروں سے بھی میرے جسم کو چیر دو تو یہ