خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 227 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 227

خطبات مسرور جلد دہم 227 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء رک گئے۔اور خاکروب کو جب کہا ( خاکروب وہاں ہمارے پاکستان میں عموماً عیسائی یا ایسی cast کے ہوتے ہیں جس کو عموماً لوگ پسند نہیں کرتے ، حالانکہ کسی قسم کا کوئی امتیاز نہیں ہونا چاہئے ) تو بہر حال کہتے ہیں اُس نے یہ کہا کہ نہ مولوی صاحب تمہارے ساتھ کھاتے ہیں نہ تم لوگ۔( یعنی کھانا تو اکٹھے تم لوگ کھاتے نہیں۔نہ وہ تمہارے ساتھ کھا ئیں نہ تم کھاؤ ) پھر انہوں نے اس میں یہ شرط رکھی کہ اگر تم ہمارے ساتھ کھا لو تو پھر مولوی صاحب کو چھوڑ دیں گے۔وہ شرمندہ ہوئے لیکن مخالفت کرتے رہے۔خاکسار نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت بابرکت میں لکھا کہ لوگ میرا پانی بند کرتے ہیں اور مسجدوں میں نماز پڑھنے سے روکتے ہیں۔اگر مولوی فیروز دین اور چو ہدری نصر اللہ خان صاحب پلیڈر احمدی ہو جائیں تو جماعت میں ترقی ہو جائے گی۔حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے مجھے جواباً لکھا کہ آپ یہ خیال مت کریں کہ فلاں احمدی ہو جائے گا تو جماعت بڑھے گی۔آپ صبر کریں اور نمازوں میں دعائیں کریں۔یہ سلسلہ آسمانی ہے انشاء اللہ بڑھے گا اور زمین کے کناروں تک پہنچے گا اور سب سعید روحیں اس میں داخل ہوں گی۔مسجد میں احمدیوں کی ہوں گی ، آپ گھبرائیں نہیں“۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ (41) اور اللہ کے فضل سے جماعت وہاں پھیلی بھی۔پس یہ مسجد میں احمد یوں ہی کی ہوتی ہیں جتنی چاہے پابندیاں لگاتے رہیں یا وہاں آپ کی مخالفتیں کرتے رہیں۔حضرت عبد اللہ صاحب ولد اللہ بخش صاحب فرماتے ہیں کہ حضور انور کا وصال ہو گیا۔میں وہیں موجود تھا۔غیر احمدی وغیرہ مخالفین بطور تماشا بلڈنگ کے باہر تماشا دیکھ رہے تھے۔ہم باہر دروازہ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک دوست کی چیخیں نکلنے لگیں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ باہر تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ میرا ایمان جیسا کہ پہلے تھا اب بھی ویسا ہی ہے۔حضرت مرزا صاحب اپنا کام کر کے چلے گئے۔یہ استقلال دکھانے کا موقع ہے نہ کہ رونے کا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 148) پھر ایک روایت ہے حضرت خیر دین صاحب ولد مستقیم صاحب کی۔فرماتے ہیں کہ میرے استاد صاحب جن کا نام مولوی اللہ دیتا صاحب تھا وہ مولوی محمد حسین بٹالوی کے معتقد تھے۔جس زمانے میں مولوی محمدحسین بٹالوی نے رسالہ اشاعۃ السنتہ لکھا تو انہوں نے وہ رسالہ پڑھا۔پوچھا کہ وہ کون شخص ہیں جن کی آپ نے یہ تعریف لکھی ہے۔کہاں رہتے ہیں؟ میرا دل چاہتا ہے کہ اُن کی زیارت کروں۔چنانچہ وہ جناب حضرت اقدس کی زیارت کے لئے قادیان آئے۔جب وہ آئے تو حضور لیٹے ہوئے تھے۔انہوں نے آکر