خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 228 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 228

خطبات مسرور جلد دہم 228 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012 ء حضور کو دبانا شروع کر دیا۔دباتے دباتے حضرت اقدس کے چہرہ مبارک کی طرف دیکھا تو عرض کی کہ حضور جو حدیثوں میں امام مہدی کا حلیہ بیان ہوا ہے وہ آپ پر چسپاں ہوتا ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بیعت لینے سے پہلے کا واقعہ ہے۔حضور مسکرا کر خاموش رہے۔پھر مولوی اللہ دیتا صاحب کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ حضور! میرا دل چاہتا ہے کہ آپ کی بیعت کرلوں۔حضور نے فرمایا مجھے ابھی حکم نہیں۔معلوم ہوا کہ حضور نے جو کچھ بننا تھا، بن چکے تھے ، صرف حکم کی انتظار تھی۔کہتے ہیں میرے استاد صاحب حضرت اقدس کی محبت سے بھر گئے اور اپنے گاؤں واپس چلے گئے۔جب حضور نے بیعت کا اشتہار دیا ، اُسی وقت انہوں نے بیعت کر لی۔میں نے خدا تعالیٰ کے فضل سے ان کے ساتھ کوئی مخالفت نہیں کی اور اُن کے ساتھ ہی رہا۔لوگوں نے اُنہیں بہت دکھ دیا تھا اور تکلیفیں پہنچائی تھیں۔میں خوش اعتقاد تو ر ہا مگر صرف سستی سے 1906ء کا وقت آگیا۔1906ء میں خدا تعالیٰ کے فضل سے میں نے آکر دستی بیعت کی۔ظہر کی اذان ہو چکی تھی۔حضور مسجد مبارک کے محراب میں رونق افروز ہو گئے اور فرمایا کہ کوئی بیعت کرنے والا ہے تو بیعت کرلے۔میں وضو کر کے نماز کے لئے آرہا تھا۔جب سیڑھیوں کے قریب آیا تو کسی شخص نے آواز دی کہ حضور فرماتے ہیں جس نے بیعت کرنی ہو جلدی سے آکر کر لے۔چنانچہ خاکسار نے فورا خدمت میں حاضر ہو کر بیعت کر لی۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحه 153-154) پھر حضرت قاضی محمد یوسف صاحب فرماتے ہیں: " قریباً ستائیس برس ملازمت سرکار کی کی اور پندرہ روپے ماہوار سے دوسو روپے ماہوار تک تنخواہ ملی بلکہ زیادہ بھی۔ہر مشکل اور تکلیف میں جہاں کوئی دوست کام نہ آسکا وہاں صرف اللہ تعالیٰ ہی کام آتارہا اور میرے سب کام اُس کے فضل و کرم سے ہوئے۔بڑے بڑے ابتلا آئے اور آسانی سے گزر گئے۔بیگانوں نے تو کرنا ہی تھا خود اپنوں نے میرے ساتھ سالہا سال برادرانِ یوسف کا سا سلوک روارکھا۔مگر خدا تعالیٰ نے ہر معاند و حاسد کو اُس کے حسد وعناد میں نا کام رکھا۔خدا تعالیٰ نے ہمیشہ میری دعائیں سنیں۔اللہ ہی کے حق میں میرا خیر مدنظر تھا۔“ کہتے ہیں کہ اہل لاہور نے توہینِ رسول کا ایک بہتان میرے ذمہ باندھا اور احرار سر حد نے میرے قتل کے واسطے ایک بے گناہ شخص کو میرے سر بازار قتل پر آمادہ کیا۔خدا تعالیٰ نے میری بریت کے واسطے پستول میں گولی ٹیڑھی کر دی اور پستول چل نہ سکا۔قاتل کو ارباب محمد نجیب خان صاحب احمدی نے گرفتار کیا اور حوالہ پولیس ہوا اور گورنمنٹ سرحد نے اُس کو نو سال کے واسطے جیل میں بند کر دیا۔دشمن نا کام ہوئے۔خدا ہمارے ساتھ تھا اور اب بھی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا الہام پورا ہوا کہ آگ سے ہمیں مت ڈراؤ ، آگ