خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 226 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 226

خطبات مسرور جلد دهم 226 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 13 اپریل 2012ء روایت کے رجسٹر میں یہاں لکھنے والے نے کچھ آگے پیچھے لکھا ہوا ہے بہر حال پھر آگے روایت یہ چلتی ہے کہ شادی خان نامی ایک قصاب تھا جو احمدی ہو گیا اور وہاں ایک میاں گل صاحب بھی تھے جو بلوچوں کے سردار تھے اور اُن کو بھی جب پتہ لگا کہ شادی خان احمدی ہو گیا ہے تو انہوں نے اپنے لوگوں کو کہا کہ شادی خان کا گوشت جو قصائی کی دکان سے خریدتے تھے وہ پھینک دو اور یہ احمدی ہے اس کو مارو۔چنانچہ وحشی مسلمانوں نے ایسا ہی کیا۔اُس کے سر سے خون بہہ رہا تھا اور مقدمہ ڈپٹی کمشنر صاحب بہا درستی بلوچستان کے حضور دادرسی کی درخواست دی گئی تو مقدمہ دائر کرنے کے بعد کہتے ہیں مجھ کو الہام ہوا کہ شادی خان کا مکان بچایا جاوے گا۔میں نے سب دوستوں کو اس سے اطلاع دی کہ سب مع بال بچوں کے جو تعداد میں چھتیں کس تھے سب شادی خان کے مکان میں چلے جاؤ۔چنانچہ سب چلے گئے۔نتیجہ کا انتظار تھا کہ شادی خان نے آدھی رات کے وقت کہا۔شادی خان صاحب نے بھی خواب دیکھی کہ میں ایک بڑے دربار میں طلب کیا گیا۔وہاں ایک شخص بڑی شان و شوکت سے خیمہ لگائے تخت پر بیٹھا ہے۔اُس کے گرد اس اُمت کے اولیاء بیٹھے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام دروازے پر کھڑے میرا انتظار کر رہے ہیں۔میں نے جب پوچھا تو اُس وقت میرے سر سے خون بہہ رہا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک ہاتھ میری ٹھوڑی پر رکھا اور دوسرے سے سر کو پکڑ کر اس تخت کے پاس لے گئے ( یہ خواب اپنی بتارہے ہیں) اور عرض کی کہ جب میرے مریدوں کا یہ حال ہو تو میں کیا کروں؟ تخت والے نے آواز دی کہ کوئی ہے۔ایک بڑا جرنیل کہ تمغے اُس کے لگے ہوئے تھے حاضر ہوا۔اُس کو حکم ہوا کہ شادی خان کے ساتھ جاؤ۔چنانچہ میں آگے ہوا۔میرے پیچھے جرنیل اور اُس کے پیچھے فوج ہے اس شہر میں داخل ہوگئی۔( یہ انہوں نے خواب دیکھی) اس کے بعد انہوں نے کہا اب میں مقدمہ نہیں کرنا چاہتا۔میرا بدلہ خودخدالے گا۔چنانچہ اس کے بعد پانی کا ایک طوفانِ عظیم آیا اور شہر کے بیرونی حصے کو غرق کر دیا صرف شادی خان کا مکان بیچ گیا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 5 صفحہ 77 تا 79) حضرت جان محمد صاحب ولد عبدالغفار صاحب ڈسکوی فرماتے ہیں کہ ” 1903ء میں ہم احمدیوں کی سخت مخالفت ہوئی اور خاص کر میری کیونکہ میں ڈسکہ میں پہلا احمدی تھا اور مجھے زیادہ تکلیف دیتے تھے۔سقہ اور خاکروب کو بھی روکا گیا۔یعنی پانی ڈالنے والے کو اور صفائی کرنے والے کو روکا گیا۔سقہ نے یہ کہہ کر کہ مجھے تحصیلدار صاحب کہتے ہیں کہ مولوی صاحب کو پانی دیا کرو، ان کو کہا کہ اگر تم نے مجھے روکا تو میں تحصیلدار صاحب سے کہوں گا کیونکہ مجھے اُن کا حکم ہے کہ ان کا پانی نہیں روکنا۔خیر اُس سے تو وہ