خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 214
خطبات مسرور جلد دہم 214 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اپریل 2012 ء جائیں۔جس پر پولیس نے اُس دوست سے ایک سادہ کاغذ پر دستخط بھی لے لئے کہ یہ میں واپس لے کر جارہا ہوں اور ماسٹر صاحب کو اُن کے حوالے کر دیا۔کیونکہ ماسٹر عبدالقدوس صاحب کی حالت ٹھیک نہیں تھی اس لئے وہ دوست انہیں فوری طور پر وہاں سے ہسپتال لے گئے جہاں جا کے پھر پتہ لگا کہ پولیس نے غائب کرنے کے ابتدائی دو تین دن میں ماسٹر صاحب پر بہت زیادہ تشدد کیا جس کی وجہ سے اُن کی حالت خراب ہو گئی۔اُنہیں پاخانے میں بھی خون آتا رہا، خون کی الٹیاں بھی آتی رہیں، اسی طرح ان کے گردوں پر بھی کافی اثر ہوا۔ویسے ہوش میں تھے لیکن اندرونی طور پر انتہائی شدید چوٹیں لگی تھیں۔ماسٹر صاحب نے ملاقات کے دوران بتایا کہ 17 مارچ کو رات کے اندھیرے میں انہیں کچھ پولیس اہلکار تھانہ ربوہ سے پانچ چھ گھنٹے کی ڈرائیو کے فاصلے پر ایک نامعلوم مقام پر لے گئے اور انتہائی تشد دکیا۔کچی سڑکیں ہیں ،تھوڑا فاصلہ بھی ہو تو وہاں وقت زیادہ لگتا ہے۔بالکل ویران جگہ تھی۔پولیس والے انہیں مارمار کے یہ کہتے رہے کہ کسی عہد یدار کا نام بتاؤ جو اس قتل میں ملوث ہے۔تم بھی عہد یدار ہو۔نام بتا دو تو تمہیں چھوڑ دیں گے، اُس کو پکڑ لیں گے۔اور ایک کاغذ پر دستخط کروانے کی کوشش کرتے رہے۔ان عہد یداروں میں بعض ناظران کے نام بھی انہوں نے لئے ، اوروں کے نام بھی۔جس پر ماسٹر صاحب نے دستخط نہیں کئے۔یہ جب مارتے تھے اور جب تشدد کرتے تھے تو پولیس والوں کا کہنا تھا کہ پہلی بار کوئی جماعتی عہد یدار ہاتھ لگا ہے۔پہلے تو یہ چھوٹ جایا کرتے تھے۔اور پھر تشدد شروع کر دیتے تھے۔اس دوران میں تشدد کرتے ہوئے یہ اہلکار جو ہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور خلفاء کے نام لے کر جماعت کے خلاف بھی شدید بدزبانی کرتے رہے۔تشدد کے نتیجے میں ماسٹر عبدالقدوس صاحب کی حالت بہت خراب ہوگئی۔اور جیسا کہ میں نے بتایا خون کی الٹیاں آتی رہیں۔جس پر پولیس والوں نے تشدد روک دیا۔انہیں کچھ دوائیاں وغیرہ دیں۔جب ان کی حالت قدرے بہتر ہوئی تو پولیس انہیں پھر تھا نہ واپس لے آئی اور اُس کے دوست کے حوالے کر دیا۔ماسٹر عبدالقدوس صاحب کو فضل عمر ہسپتال میں داخل کر کے آئی سی یو (ICU) میں رکھا گیا۔مسلسل خون کی بوتلیں لگائی گئیں تو ان کی الٹیاں رک گئی تھیں۔لیکن شہادت سے ایک روز قبل 29 مارچ کو ایک دوروز کے وقفے کے بعد دوبارہ خون کی الٹیاں آئیں اور ان کی حالت دوبارہ زیادہ بگڑ گئی۔پھیپھڑے بھی متاثر ہو گئے جس کی وجہ سے 30 مارچ کو گزشتہ جمعہ کو بے ہوش ہو گئے اور اُسی حالت میں اُن کی وفات ہوگئی۔اِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون۔وفات سے پہلے طاہر ہارٹ میں بھی ان کو شفٹ کیا گیا تھا۔ڈائیلیس (Dialisis) کا بھی پروگرام تھا۔تیاری ہو رہی تھی لیکن پولیس کا جو تشد دتھا،