خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 215
خطبات مسر در جلد دہم 215 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 اپریل 2012 ء اُس کی اندرونی چوٹوں کی وجہ سے بہر حال یہ جانبر نہ ہو سکے اور شہادت کا رتبہ پایا۔اس کی مزید تفصیل ان کے برادر نسبتی نے لکھی ہے جو انہوں نے ان کو بتایا۔یہ ان کے پاس ہسپتال میں رہتے رہے تھے کہ 17 مارچ کو ربوہ کے پاس، چنیوٹ سے آگے جا کے وہاں ایک جگہ ہے جھنگڑ گلوتراں، یہ اُن کو وہاں لے گئے اور شدید ظالمانہ تشدد کیا۔( لکھتے ہیں کہ ساری باتیں جو میں بتا رہا ہوں بڑے وثوق سے بتا رہا ہوں مجھے انہوں نے خود بتائی ہیں۔) امجد باجوہ صاحب کے ساتھ پیدل چل کے یہ پولیس تھانہ سے باہر آئے۔اس کے بعد ہم ان کو ہسپتال لے گئے تو وہاں رستے میں انہوں نے کہا کہ مجھ پر بہت تشدد ہوا ہے۔بڑا خوفناک تشد د تھا۔اور یہ بھی بتایا کہ تھانیدار اور جو تفتیشی افسر تھا وہ اس تشدد میں شامل تھے۔چنیوٹ سے پنڈی بھٹیاں روڈ پر لے گئے۔وہاں سے پھر ہرسہ شیخاں سے آگے دریا کی طرف لے گئے۔دریا کے اندر سے ہی کوئی راستہ نکلتا تھا، جس طرح کہ میں نے بتا یا جھنگڑ گلوتراں، وہاں لے گئے اور وہاں لے جا کے جو پولیس چوکی تھی وہاں مجھے حوالات میں بند کر دیا اور اُس کے بعد وہاں سے کچھ دیر بعد جب میں باہر آیا تو کرسیوں پر دائرہ کی صورت میں ربوہ کا تھانیدار تفتیشی افسر ، وہاں کا لوکل تھانیدار اور جوڈی ایس پی تھے وہ بھی کرسیوں میں بیٹھے ہوئے دائرے کی شکل میں موجود تھے ، اور اُن کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا کہ یہ تمہارا بیان ہے اس پر دستخط کر دو۔جیسا کہ میں نے بتایا کہ ربوہ کی مرکزی انجمن اور صدر عمومی وغیرہ کے خلاف بیان تھا، تو انہوں نے کہا کہ یہ غلط بیانی ہے میں کیوں کروں۔اُس میں یہ بیان تھا کہ جو قتل ہوا ہے اُس میں یہ یہ لوگ ملوث ہیں اور انہوں نے یہ کروایا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر تم یہ دستخط کر دو تو ہم تمہیں چھوڑ دیں گے۔کہتے ہیں میں نے دستخط کرنے سے انکار کر دیا کہ یہ میرا بیان ہی نہیں ہے اور ایسا ہوا بھی نہیں ہے۔میں کس طرح دستخط کر سکتا ہوں ؟ تو پھر انہوں نے مجھے دھمکیاں دیں کہ خود دستخط کر دو تو بچ جاؤ گے، ورنہ ہم تو تم سے اُگلوالیں گے۔ماسٹر صاحب بیان کرتے ہیں کہ میرے دو دفعہ انکار کے بعد ساتھ کھڑے ہوئے دو ہٹے کٹے لوگوں نے مجھے گرا لیا اور مارنا شروع کر دیا۔اس کے بعد مسلسل مجھ پر تشددکرتے رہے اور اپنا مطالبہ دہراتے رہے۔اور تشدد کے مختلف طریقے تھے۔یہ بعض لفظ انہوں نے لکھے ہوئے ہیں، رستہ لگانا، منجی لگانا یا سر یہ لگانا، رولا پھیرنا۔یہ تو مختلف چیزیں ہیں۔بہر حال رُولا پھیر نا جو ہے وہ لکڑی کا ایک رُولا ہوتا ہے، جو بڑا سارا اور کافی وزنی ہوتا ہے، وہ لٹا کے جسم پر پھیرا جاتا ہے۔اور اسی طرح رستہ باندھ دیا۔پھر رستہ باندھ کر گھسیٹتے رہے۔اس کے علاوہ مسلسل جگائے رکھا اور جب آنکھ بند ہونے لگتی تو مجھے حوالات سے باہر نکال کے مارنا شروع کر دیتے۔وہاں ایک نامی گرامی بدمعاش تھا