خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 213 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 213

خطبات مسرور جلد دہم 213 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 6 اپریل 2012 ء اور معمولی قربانیاں نہیں۔جیسا کہ میں نے کہا پاکستان میں سب سے زیادہ ظلم و بربریت کی داستانیں رقم ہو رہی ہیں۔حکومت کے ارباب حل و عقد چاہے کہتے رہیں، لیکن آج بھی ریاستی کارندے اپنے زیر سایہ دہشتگر دی کر رہے ہیں۔ان کا رندوں کی دہشتگر دی آج بھی احمدیوں کو ظلم و بربریت کا نشانہ بنارہی ہے۔گزشتہ دنوں ربوہ کے پولیس اہلکاروں نے جن میں تھانہ انچارج اور اُس کے اسسٹنٹ شامل تھے اور ایک اطلاع کے مطابق اُس سے بڑے افسر بھی ، ہمارے ایک انتہائی مخلص اور فدائی احمدی کو ایک ماہ کے قریب بغیر کسی قسم کا کیس رجسٹر کئے تھا نہ میں رکھا اور پھر کسی نامعلوم جگہ لے جا کر آٹھ دس دن تک شدید تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں یہ مخلص اور فدائی احمدی جن کا نام عبدالقدوس تھا، صبر و استقامت سے یہ ٹارچر اور اذیت برداشت کرتے ہوئے اپنے خدا کے حضور حاضر ہو گئے۔إِنَّا لِلهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ راجِعُونَ۔انہوں نے تو شہادت کا یہ رتبہ پالیا۔اس واقعے کی تفصیل اس طرح پر ہے کہ ربوہ کے محلہ نصرت آباد کے رہائشی ایک شخص احمد یوسف اسٹام فروش جو عدالت کے باہر سٹیمپ پیپر بیچنے والے تھے، اُن کو چار پانچ اکتوبر کی درمیانی رات کو کسی نے قتل کر دیا اور پولیس نے پھر مقتول کے بیٹے کے کہنے پر ، اُس کے ایماء پر مختلف احباب کو مختلف اوقات میں شک کی بنا پر گرفتار کر کے شامل تفتیش رکھا اور بعد میں ان تمام احباب کو جن کو پکڑا گیا تھا بے گناہ کر کے چھوڑ دیا گیا۔اسی سلسلے میں مقتول کا بیٹا جو مدعی تھا، اُس کی طرف سے ماسٹر عبدالقدوس صاحب شہید کا نام بھی لیا گیا جس پر پولیس نے انہیں بھی تھا نہ بلا لیا۔یہ محلہ نصرت آباد کے صدر جماعت تھے۔اس کے بعد مدعی نے ماسٹر عبدالقدوس صاحب جیسا کہ میں نے کہا صدرمحلہ تھے، اُن کو بغیر کسی وجہ کے اس کیس میں نامزد کر دیا۔پھر ڈی پی او کو تحریری درخواست دی۔پولیس نے ماسٹر صاحب کو 10 فروری کو مغرب کی نماز کے وقت مسجد میں آ کے گرفتار کر لیا۔پکڑ کے تو لے گئی لیکن با قاعدہ جو پرچہ کاٹا جاتا ہے، گرفتاری ڈالی جاتی ہے، وہ نہیں ڈالی۔رابطہ کرنے پر پولیس والوں نے یہی کہا اور مسلسل یہی کہتے رہے کہ ہم جانتے ہیں یہ بھی بے گناہ ہے۔بڑے افسران سب یہی کہتے رہے کہ جلد ہی معاملہ کلیئر (clear) ہو جائے گا۔بعض مجبوریاں ہیں، یہ ہے وہ ہے، اس لئے ہم نے پکڑا ہوا ہے۔اسی دوران 17 مارچ کو ماسٹر عبدالقدوس صاحب کو پولیس نے تھا نہ ربوہ سے کسی نامعلوم جگہ پر منتقل کر دیا۔ان کو غائب کرنے کے کوئی دس دن کے بعد 26 مارچ کو پولیس اُنہیں تھا نہ میں واپس لے آئی اور ماسٹر صاحب کے ایک دوست کو فون کر کے کہا کہ اپنا بندہ آکے لے جاؤ۔اپنے آدمی کو لے جاؤ۔جس پر وہ دوست وہاں گئے تو ماسٹر صاحب نے کہا کہ مجھے یہاں سے لے