خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 201
خطبات مسرور جلد دہم 201 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء اسلام کی غیرت کے نام پر حملے کرتے ہیں اور اسلامی نظام لانا چاہتے ہیں۔سکولوں پر حملے کرتے ہیں، معصوم عورتوں اور بچوں کو مار رہے ہیں لیکن کہتے ہیں میں پاکستان گیا تو میں نے دیکھا کہ اسلام آباد میں ایک مین روڈ کے اوپر ہی سڑک پر ایک شراب کشید کرنے کی فیکٹری تھی ، Brewery جسے کہتے ہیں، اُس پر کبھی ان شدت پسندوں نے حملہ نہیں کیا۔حالانکہ وہ کھلے عام ہے۔اسی طرح کہنے لگے ٹی وی چینل ہیں، ننگے اور بیہودہ پروگرام پاکستان میں بھی آتے ہیں اور مسلمان چینلوں میں بھی آتے ہیں، ان کے خلاف کوئی آواز نہیں اُٹھاتا یا اُن پر حملہ نہیں ہوتا۔بہر حال یہ اسلام پسندوں کی عملی حالت ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جہاں تک شراب کا تعلق ہے، شراب کشید کرنے والوں، رکھنے والوں، بیچنے والوں، پلانے والوں، پینے والوں ، ان سب پر لعنت بھیجی ہے۔(سنن ابی داؤد کتاب الاشربة باب العنب يعصر للخمر حديث (3674) یہ لعنت تو ان لوگوں کو برداشت ہے کہ وہاں شراب کی فیکٹریاں لگی ہوئی ہیں لیکن احمدی کا کلمہ پڑھنا ان کو کبھی برداشت نہیں ہوسکتا۔بہر حال میں کہہ رہا تھا کہ جو معاشرہ ہے ہم بھی اس معاشرے میں رہتے ہیں اور اس کا اثر ہم پر بھی پڑسکتا ہے۔ہمیں بھی احتیاط کی ضرورت ہے۔ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بعثت کے مقصد کو سمجھتے ہوئے اپنی عملی حالتوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے تبھی ہم احتیاط کے تقاضے پورے کر سکتے ہیں۔خاص طور پر بڑوں کو بچوں اور نوجوانوں پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے اور نو جوانوں کو خود بھی محتاط ہونے کی ضرورت ہے۔آجکل تو دشمن گھروں میں گھس کر اخلاق سوز حرکتیں کر کے ہر ایک کے اعمال کو خراب کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔جیسا کہ میں نے کہا ٹی وی چینلز نے اخلاقیات اور نیک اعمال کے زاویے ہی بگاڑ دیئے ہیں۔اسی طرح انٹرنیٹ ہے اور دوسری چیزیں ہیں، ان کے خلاف اگر ہم نے مل کر جہاد نہ کیا تو اعمال کی اصلاح تو ایک طرف رہی ، شیطانی اعمال کی جھولی میں ہم گر جائیں گے اور اس سے بچنے کے لئے پھر کوئی اور راستہ نہیں ، سوائے اس کے کہ ہم خاص طور پر جیسا کہ میں نے کہا جہاد کی صورت میں اللہ تعالیٰ سے مدد لیں۔اس کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوں اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کی مدد بھی حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ہمیں اس کے لئے اللہ تعالی کو پکارنا ہوگا تبھی ہم بیچ سکتے ہیں۔صرف اتنا کہنا کافی نہیں ہے کہ میں ایک خدا پر یقین رکھتا ہوں، بلکہ ایک خدا سے تعلق پیدا کرنے کی بھی ضرورت ہے تا کہ ان شیطانی حملوں سے بچا جا سکے جو ہمارے گھروں کے کمروں تک پہنچ چکے ہیں۔ورنہ ان برائیوں اور ان بیماریوں