خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 202
خطبات مسر در جلد دہم 202 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 30 مارچ 2012ء سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں ہے۔کہتے ہیں ایک بزرگ کا شاگرد تھا، اُس نے جب تعلیم مکمل کی اور واپس جانے لگا تو بزرگ نے اُس شاگرد سے پوچھا کہ کیا جس ملک میں تم جارہے ہو، وہاں شیطان بھی ہوتا ہے؟ تو شاگرد نے حیران ہو کر کہا کہ شیطان کہاں نہیں ہوتا؟ شیطان تو ہر جگہ ہے۔تو انہوں نے کہا کہ جو کچھ تم نے مجھ سے دین کے بارے میں ،اخلاقیات کے بارے میں سیکھا ہے، پڑھا ہے، اگر اس پر عمل کرنے لگو اور شیطان حملہ کر دے تو کیا کرو گے؟ اُس نے کہا مقابلہ کروں گا۔انہوں نے کہا ٹھیک ہے۔پھر تمہاری تو جہ دوسری طرف ہو اور وہ پھر حملہ کر دے تو پھر کیا کرو گے؟ اُس نے کہا پھر مقابلہ کروں گا۔غرض دو تین دفعہ انہوں نے اس طرح ہی پوچھا۔پھر وہ کہنے لگے کہ اگر تم اپنے کسی دوست کے پاس جاؤ اور اُس کے دروازے پر کتا بیٹھا ہو اور وہ تمہیں پکڑ لے، تم پر حملہ کرے اور کاٹنے لگے تو کیا کرو گے؟ اُس نے کہا میں اُس کو ڈرا کے دوڑانے کی کوشش کروں گا۔پھر حملہ کرے تو پھر یہی کروں گا۔انہوں نے کہا اگر تم اسی طرح لگے رہے تو پھر دوست تک تو نہیں پہنچ سکتے۔تو کیا کرو گے تم ؟ اُس نے کہا کہ آخر میں دوست کو آواز دوں گا کہ آؤ اور اپنے کتے کو پکڑو۔تو بزرگ کہنے لگے کہ شیطان بھی خدا تعالیٰ کا کتا ہے۔اس کے لئے تمہیں خدا تعالیٰ کو آواز دینی ہوگی۔اُس کے دور کو کھٹکھٹانا ہوگا تبھی شیطان کے حملوں سے بچ سکتے ہو۔(ماخوذ از خطبات محمود جلد 17 صفحہ 330-331 خطبہ جمعہ فرمودہ 22 مئی 1936ء) اپنے زعم میں نہ رہنا کہ اب علم بھی ہمیں حاصل ہو گیا اور اخلاقیات پر بھی ہم نے بڑا عبور حاصل کر لیا اور نیکی کا بھی ہمیں پتہ ہے۔نمازیں بھی ہم جیسی تیسی پڑھ لیتے ہیں۔اس زعم میں اگر رہو گے تو شیطان تم پر حملہ کرتا جائے گا اور تم اُس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔پس خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔خالص ہو کر اُس کی عبادت کرنے کی ضرورت ہے۔تبھی اس شیطان کے حملوں سے بچا جا سکتا ہے۔اور اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کے لئے، اُس کا قرب حاصل کرنے کے لئے صرف حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت میں آنا اور اپنے عقیدے کی درستگی کر لینا یہ کافی نہیں ہے۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ کو مدد کے لئے پکارنا ہو گا۔جیسا کہ میں نے کہا، اُس کے آگے جھکنا ہوگا۔اُس کی عبادت خالص ہو کر کرنی ہوگی۔جہاں عملی کوشش ہو، تو بہ اور استغفار کی طرف توجہ ہو ، وہاں ایک انتہائی ضروری چیز نماز ہے۔اللہ تعالیٰ نے بار ہا قرآن کریم میں نماز کے قیام کی طرف توجہ دلائی ہے۔پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ نماز مومن کی