خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 159
خطبات مسرور جلد دہم 159 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء ہے۔آپ فرماتے ہیں کہ ایک مولوی بنام نواب الدین قوم آرائیں ، ساکن ایدرس ضلع امرتسر اپ خیال میں یہ کہتا تھا کہ میں مرزائیوں کو درست کر رہا ہوں اور گاؤں گاؤں اور قصبے قصبے پھرتا تھا۔کہتے ہیں موضع تارا گڑھ المشہور نواں پنڈ قوم ارائیاں جو اس (خاکسار ) کے گھر کے قریب شمال میں تھا، وہاں آتے ہی اُس نے شور مچایا کہ یہاں کوئی مرزائی ہے تو میرے سامنے آئے۔کہتے ہیں کہ چونکہ مجھ سے پہلے اس گاؤں میں کوئی احمدی نہیں تھا۔سب مخالف ہی تھے اور بعض آدمی میرے واقف بھی تھے۔انہوں نے مشورہ کر کے ایک آدمی کو میرے پاس بھیجا کہ یہاں آکر مولویوں کا مقابلہ کریں۔ان کا گاؤں جو تھا اُس کے قریب ہی تھا۔کہتے ہیں کہ میں نے سوچا کہ یہ لوگ تماش بین ہوتے ہیں۔حق اور حقیقت سے کچھ غرض نہیں ہوتی۔آخر الامر فساد ہوتا ہے۔میں نے کہا کہ مباحثات سے تو حضرت صاحب نے روکا ہوا ہے۔بلا وجہ کے مباحثے اور بخشیں نہیں کرنی۔یہ اُس زمانے کی بات ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے منع فرما دیا تھا کیونکہ ان لوگوں پر اثر نہیں ہوتا جو مولوی طبقہ ہے۔تو کہتے ہیں میں نے کہا مباحثات سے تو روکا ہوا ہے۔اگر ان لوگوں کو زیادہ شوق ہے تو فساد کے ذمہ دار ہو جائیں۔ہم آپ کے گاؤں میں آجائیں گے۔مولوی صاحب کے جو اعتراض ہوں گے وہ ایک دفعہ کہہ دیں اور ہم بجائے بحث کرنے کے اُس کے جواب ایک دفعہ بتادیں گے۔لوگ خود فیصلہ کر لیں گے یا ہم فساد کے ذمہ دار ہو جاتے ہیں۔اور مولوی صاحب اور ان کے گاؤں والے یہاں آجائیں۔کہتے ہیں وہ شخص پیغام لے کر اپنے گاؤں چلا گیا اور مولوی مذکور تین آدمی اُس گاؤں کے لے کر ہمارے گاؤں میں دوسرے راستے سے آ گیا اور ہمارے گاؤں کے چیف نمبر دار کو ملا جو مذہب کا ہندو تھا اور کہا کہ اگر کوئی یہاں مرزائی ہے تو میرا مقابلہ کراؤ۔چیف نمبر دار نے میرے پاس ایک آدمی مجھے بلانے کے لئے بھیجا۔مجھے آگے ہی اس کی خبر ہو چکی تھی۔میں نے مولیٰ کریم سے دعا کی کہ الہی میں ایک نادان اور بے کس ہوں۔کوئی اپنی خوبی پر گھمنڈ نہیں۔محض تیرا افضل درکار ہے۔حق اور حقیقت واضح کر دے۔یہ دعا مانگ کر جہاں مولوی تھا میں وہاں آ گیا اور بہت ہندو اور مسلمان جمع ہو گئے۔فرش بچھایا گیا۔میں اور مولوی درمیان میں بیٹھ گئے۔تھوڑی دیر خاموشی رہی۔پھر میں نے مولوی سے بات شروع کی اور کہا کہ مولوی صاحب! کس بات کے لئے آپ سیاحت کرتے پھرتے ہیں۔تو مولوی صاحب کہنے لگے کہ امت محمدی میں بہت تفرقہ ہے۔ان کی اصلاح کے لئے پھرتا ہوں۔کہتے ہیں خاکسار نے اس پر کہا کہ آج تک کس قدر اصلاح کی اور کتنے سرٹیفکیٹ علماء و فضلاء کے اپنے مصلح ہونے کے متعلق حاصل کئے۔مولوی صاحب