خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 158
خطبات مسرور جلد دہم 158 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفة اسم الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012 ء بمطابق 16 امان 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - مورڈن - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: گزشتہ خطبہ میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے تبلیغ کے واقعات و تجربات بیان کئے تھے اور میں نے کہا تھا کہ کچھ واقعات رہ گئے ہیں وہ آئندہ بیان کروں گا، تو وہ آج ہی بیان کرتا ہوں۔ان واقعات کے سنانے کا اصل مقصد تو جیسا کہ پہلے بھی میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں یہ ہے کہ ایک تو ان صحابہ کے لئے دعا ہو جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کیا اور ہمیں اس زمانے کے انعامات سے حصہ لینے والوں میں بنایا۔اللہ تعالیٰ ان سب کے درجات بلند فرماتا چلا جائے۔ورنہ شاید ہم میں سے بہت سے اس نعمت سے محروم رہتے جو اللہ تعالیٰ نے اتاری ہے۔دوسرے ان کی نیکیاں، اُن کی ایمانی جرات، اُن کی دین کے لئے غیرت، اُن کا دین کی خدمت کا جذبہ اُن کی نسلوں میں بھی روح پھونکنے والا ہو اور جو براہ راست اُن سے خونی رشتہ نہیں رکھتے لیکن ایک روحانی رشتہ ان کے ساتھ ہے وہ اس تعلق کی وجہ سے اپنے اندر بھی ایک جوش اور ولولہ پیدا کر کے ان بزرگوں کے جذبات اور دلی تڑپ کو آگے بڑھانے والے ہوں اور اس فیض کو اپنی نسلوں میں بھی جاری رکھیں تبھی ہم ان بزرگوں کے احسانوں کا حق ادا کر سکتے ہیں۔بہت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں ، بعض دفعہ ملنے پر بتاتے بھی ہیں کہ فلاں بزرگ کا آپ نے ذکر کیا تھا اُن کے ساتھ میرا رشتہ داری کا، عزیز داری کا یہ یہ تعلق ہے۔لیکن ہمیشہ یادرکھنا چاہئے کہ ان رشتوں کا حق تبھی ادا ہوتا ہے جب اُن کے نقش قدم پر بھی چلا جائے۔پس اس ذمہ داری کے نبھانے کے احساس اور کوشش کو ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔آج جو میں ذکر کر رہا ہوں اُن میں سے پہلی روایت حضرت میاں جمال الدین صاحب کی