خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 160
خطبات مسر در جلد دہم 160 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 16 مارچ 2012ء نے کہا کہ ہاں حاصل کئے ہیں۔تو میں نے انہیں کہا کہ پھر مجھے دکھا ئیں۔مولوی صاحب کہنے لگے کہ وہ میں گاؤں چھوڑ آیا ہوں اور جلدی سے یہ کہہ دیا کہ اصل غرض میری یہ ہے کہ مرزا نے جو فساد ڈالا ہے خود کافر ہے اور لوگوں کو بھی کا فر کرتا ہے ( نعوذ باللہ )۔ایسے لوگوں سے مباحثہ کرتا ہوں۔تو اس پر کہتے ہیں۔میں نے کہا کہ مجھے بھی وجوہ کفر بتا دیں۔نیز بحث کس بات پر کرو گے؟ مولوی صاحب نے کہا تم اردو میں بات کر رہے ہو۔میں عربی میں گفتگو کروں گا۔تو میں نے کہا کہ میں عربی میں بول نہیں سکتا۔پنجابی میں باتیں کر لو۔مولوی نے اس پر کہا کہ اچھا پنجابی میں باتیں کر لیں۔کہتے ہیں میں نے کہا کہ پھر تو بڑی اچھی بات ہے۔مولوی صاحب کہنے لگے اپنا مذ ہب بتائیں۔میں نے کہا پہلے آپ اپنا مذہب بتا ئیں۔مولوی صاحب نے کہا کہ میرا مذہب حنفی ہے اور خدا کو وحدہ لاشریک جانتا ہوں اور محمد رسول اللہ کو سچا مانتا ہوں (صلی اللہ علیہ وسلم ) اور حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کو نہیں آیات قرآن شریف سے اور حدیث صحیح کے ثبوت سے چہارم فلک پر اس وجود کے ساتھ زندہ مانتا ہوں۔جو اس سے انکار کرے اُس کو کا فرسمجھتا ہوں اور تعلیم یافتہ ہوں۔پھر کہنے لگے کے آپ اپنا مذہب اور تعلیم بتا ئیں۔کہتے ہیں اس پر خاکسار نے کہا کہ میں اللہ تعالیٰ کو وحدہ لاشریک جانتا ہوں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین مانتا ہوں۔حضرت عیسی علیہ السلام بنی اسرائیل کو قرآن اور حدیث سے فوت شدہ مانتا ہوں اور جو آنے والا عیسی علیہ السلام اور مہدی تھا وہ اس امت میں سے تھا جو اس وقت حضرت مرزا غلام احمد صاحب نے دعوئی میسحیت اور مہدویت کیا ہے میں اس کو صدق دل سے سچا مانتا ہوں جو اس کو نہ مانے میں اُس کو حق پر نہیں سمجھتا۔مجھے سندی علم کا دعویٰ نہیں ہے ( یعنی تعلیم کا ، دینی علم کا میرا کوئی سرٹیفکیٹ نہیں ہے ) اپنا ہی مطالعہ ہے نیز حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تاثیر صحبت سے اثر رکھتا ہوں۔ہاں یہ بھی اقرار کرتا ہوں کہ حضرت ابنِ مریم بنی اسرائیل کو قرآن شریف کی صریح آیات اور حدیث متصل مرفوع سے کوئی شخص ثابت کر دے (یعنی ایسی حدیثیں جن کا روایات کے سلسلے میں تسلسل او پر تک با قاعدہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچتا ہو۔) کہ وہ چہارم فلک پر اسی وجو د عنصری سے صعود فرما گئے ہوئے ہیں اور آج تک زندہ بیٹھے ہیں تو تو بہ کرنے کو تیار ہوں۔( کہتے ہیں میں نے مولوی صاحب کو یہ کہا )۔مولوی صاحب کہنے لگے۔اچھا پھر اس اقرار نامے کی ایک تحریر لکھ کر مجھے اس پر دستخط کر دو۔میں نے ایک کا غذ قلم منگوایا اور عبارت لکھ کے دستخط کر کے مولوی صاحب کو دے دیا۔مولوی نے کاغذ مذکور ہاتھ میں لیا اور پوچھا کہ تفسیروں کو مانتے ہو۔میں نے کہا اُن تفسیروں کو مانتا