خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 146
خطبات مسر در جلد دہم 146 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء سے روکتے تھے ) اور حضرت اقدس ( مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) کو مہدی کہنے سے روکتے تھے، وہ ایک دن تیرے سامنے مردہ ہو جائیں گے۔لہذا یہ تینوں باتیں پوری ہو گئیں۔( لکھتے ہیں کہ تینوں باتیں پوری ہوگئیں ) اور خان فتہ میں میری اتنی مخالفت کے باوجود تمام گاؤں کا گاؤں ہی میری تبلیغ اور خدا تعالیٰ کی مد داور حضور کی دعاؤں سے احمدی ہو گیا۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 82 روایت حضرت شیر محمد صاحب) پھر حضرت قاضی محمد یوسف صاحب ( یہ مردان کے تھے ) فرماتے ہیں کہ : اپنے دوران سیاحت میں ہندوستان میں بمبئی، کراچی ، دہلی ، آگرہ ،شملہ اور کلکتہ کے دیکھنے کا موقع ملا۔بلوچستان میں سہی ، کوئٹہ اور مستونگ دیکھے۔افغانستان میں جلال آباد، کابل اور چارے کار نعمانی دیکھے۔پنجاب میں کوہ مری ، قادیان، گورداسپور، امرتسر، راولپنڈی، سیالکوٹ، لاہور اور وزیر آباد دیکھے۔سرحد تمام اور ایجنسیاں دیکھیں۔اور پھر سوات اور جموں اور کشمیر دیکھا۔روضہ بل میں حضرت یوز آسف، یسوع یوسف کی قبر دیکھی جو محلہ خانیار میں واقع ہے۔جب خاکسار نے بیعت کی تو اُسی دن سے تمام اسلامیہ سکول کے طلباء میں ، شہر پشاور کے تمام محلوں کے طلباء میں قادیانی ، قادیان اور مرزا قادیان کے نام سے مشہور ہو گیا۔“ ( یعنی جس دن بیعت کی اُسی دن ایسا اظہار کیا کہ سارے سکول میں مشہوری ہوگئی۔کہتے ہیں کہ ) ''اگر فٹبال فیلڈ میں جا تا تو تمام شاہی باغ میں یہی چرچا ہوتا رہتا کہ احمدیت کی خوب شہرت ہوئی اور لوگوں نے سوالات کرنے شروع کئے اور روزمرہ مباحثات اور سوال و جواب کا اکھاڑہ جم جاتا۔( سکول میں جاتے تھے تو ) سکول میں شاہی باغ میں اور جہاں بھی موقع پیش آتا رفتہ رفتہ یہ چر چا عام ہوتا گیا اور میرے ایامِ ملازمت میں سکول اور شہر کے دائرے سے نکل کر اطراف پشاور اور پھر اطراف سرحد میں پھیل گیا۔کیونکہ میں تمام اضلاع میں سرحد میں دوروں پر آنریبل چیف کمشنر صوبہ سرحد کے ساتھ جایا کرتا۔اور سرحد کی ایجنسیوں میں بھی اتفاق ہوتا۔اسلامیہ کالج اور مشن کالج میں سرحد کے تمام اضلاع کے لڑکے پڑھتے۔اُن کو بورڈنگوں میں جا کر ملتا۔۔۔(وہاں بھی تبلیغ کرتے۔) میرے ذریعے احمدیت کو تمام سرحد میں اشاعت اور بذریعہ تحریر بھی اور بذریعہ تقریر بھی اور کثرت سے اور معمر لوگ داخلِ سلسلہ احمدیہ ہوتے گئے۔لوگ جو میرے ذریعے احمدی ہوئے یا پھر اُن کے ذریعے احمدی ہوئے اُن کی تعداد کم از کم دو اڑھائی سو افراد پر مشتمل ہو گی۔ان میں سے کچھ تو فوت ہو گئے ، کچھ زندہ ہیں۔(لیکن کہتے ہیں کہ کچھ اُن میں سے خلافت ثانیہ میں ) پیغامی ہو گئے اور کچھ جماعت میں موجود ہیں۔“ (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 197 - 198 روایت حضرت قاضی محمد یوسف صاحب) 66