خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 147
خطبات مسرور جلد دہم 147 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء حضرت احمد دین صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ ولد ما نا صاحب فرماتے ہیں۔”میں نے ایک دفعہ خطبہ جمعہ میں مسیح موعود علیہ السلام کے منہ سے سنا۔آپ نے فرمایا کہ میری جماعت کے بے علم بھی دوسروں پر غالب رہیں گے اور وہ ( یعنی غیر احمدی) اُن کا مقابلہ نہ کر سکیں گے۔چنانچہ میں نے تجربہ سے دیکھا ہے کہ میں نے باوجود بے علم ان پڑھ ہونے کے غیر احمدی علماء کو بالکل ساکت اور مات کر دیا حتی کہ انہوں نے کہا کہ تو جھوٹ بولتا ہے کہ میں بے علم اور ان پڑھ ہوں۔“ 66 (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 26 روایت حضرت احمد دین صاحب) یعنی مولویوں نے پھر یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ آپ پڑھے لکھے نہیں۔حضرت ڈاکٹر محمد بخش صاحب ولد میاں کالے خان صاحب فرماتے ہیں کہ خاکسار نے 1903ء میں بذریعہ خط از چھاؤنی چتو گ ضلع شملہ بیعت کی تھی۔حضور کی زیارت 1902ء میں کی۔اُس وقت حضور نے ریش مبارک کو مہندی لگا کر او پر کپڑا باندھا ہوا تھا۔کمر میں تہ بند یعنی چادر بندھی ہوئی تھی۔حضور مسجد مبارک کے قریب والے مکان میں صحن کے اندر چارپائی پر تشریف فرما تھے۔اُس وقت چار پانچ آدمی تھے جن سے حضور نے مصافحہ کیا اور ہر ایک کے حالات دریافت کرتے رہے۔خاکسار سے پوچھا۔کہاں سے تشریف لائے ہو ؟ عرض کی موضع کھیر انوالی ریاست کپورتھلہ سے اور رخصت پر آیا ہوا ہوں۔میں توپ خانہ میں ملازم ہوں۔وہاں اکیلا میں احمدی ہوں اور فوج میں تبلیغ بڑی مشکل ہے۔( شوق مجھے ہے لیکن تبلیغ مشکل ہے۔وہاں افسر تبلیغ نہیں کرنے دیتے۔حضور نے فرمایا کہ تم اکیلے نہیں رہو گے۔استقلال کے ساتھ تبلیغ احمدیت کرتے رہو۔گھبراؤ نہیں۔پھر حضور علیہ السلام نے دریافت کیا کہ ایک ہی جگہ چھاؤنی میں رہتے ہو؟ عرض کی کہ ہر تین سال کے بعد چھاؤنی بدل جاتی ہے۔فرمایا کہ جہاں بھی جاؤ وہاں کی جماعت سے ملتے رہا کرو۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 126 روایت حضرت ڈاکٹر محمد بخش صاحب) یہ بڑی اصولی اور ضروری ہدایت آپ نے فرمائی کہ جہاں جانا ہے، ہر احمدی کو جماعت سے ضرور رابطہ رکھنا چاہئے۔حضرت ماموں خان صاحب ولد کالے خان صاحب فرماتے ہیں کہ ”میں نے 1902ء میں ایک خواب دیکھا کہ چاند میری جھولی میں آسمان سے ٹوٹ کر آ پڑا ہے۔میں نے اس خواب کو سید محمد شاہ صاحب مرحوم ما چھی واڑہ کو جو کہ مخلص احمدی تھے ، سنایا۔انہوں نے بتایا کہ تم کو عزت ملے گی یا کسی بزرگ