خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 145
خطبات مسرور جلد و هم 145 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 9 مارچ 2012ء جواب دوں گا۔( یہ نہیں کہا کہ میں مان لوں گا۔بلکہ کہا کہ جواب دوں گا ) اور بتادوں گا کہ حقیقت کیا ہے؟ ( کہتے ہیں کہ ) چونکہ مجھے اس سے قبل کئی دفعہ حضرت اقدس کے ساتھ سیر کو جانے کا قادیان میں موقع ملتا رہا تھا۔اس لئے اس کے بعد جلد والد صاحب کے ہمراہ قادیان آ گیا اور حضور کے ساتھ صبح کو سیر کے لئے گیا۔حضور سیر میں تیز رفتار چلا کرتے تھے اور میں حضور کے ساتھ ساتھ چلنے کے لئے بسا اوقات دوڑتا ہوا جا تا تھا۔اتفاق کی بات ہے کہ اُس دن کچھ ہوا بھی چل رہی تھی اور ریت مٹی اڑ اڑ کر تمام احباب پر پڑتی تھی۔جب حضور سیر سے واپس آئے اور حضور اپنے مکان کے گول کمرہ کے سامنے احباب سے رخصت ہونے کے لئے ٹھہرے۔تمام احباب نے حضور کے گرد حلقہ بنالیا، ( دائرے میں کھڑے ہو گئے ) اور خاکسار سب کو چیرتا ہوا حضور کے پاس جا کھڑا ہوا اور تمام احباب کے چہروں کو اور حضور کے چہرہ کو غور سے دیکھنے لگا تو میری حیرانی کی کوئی حد نہ رہی جب میں نے دیکھا کہ حضور کے چہرہ پر گرد و غبار کا کوئی نشان نہ تھا اور باقی تمام لوگوں کے چہروں پر گرد و غبار خوب پڑا ہوا تھا۔میں نے اس کا ذکر اُسی دن حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ سے بھی کیا تو حضور نے فرمایا کہ مسیح موعود کے لئے ایسا ہونا بطور نشان کے ہے۔واپسی پر لاہور آ کر میں نے اونچی مسجد کے امام سے اس کا ذکر کیا اور ساتھ ہی اس کو حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کے سامنے پیش کرنے کا ذکر کیا اور بتلایا کہ انہوں نے فرما یا تھا کہ یہ مسیح کا نشان ہے۔تو اس مولوی نے جھٹ کہہ دیا کہ میں نہیں مانتا۔تم کو تو نورالدین نے یہ سب قصہ بنا کر سکھلایا ہے۔الغرض وہ تو اس سعادت سے محروم رہا اور ہم نے خودا پنی آنکھوں سے اس نشان کو دیکھا۔“ (رجسٹر روایات صحابہ غیر مطبوعہ جلد 7 صفحہ 62 روایت حضرت ماسٹر نذیر حسین صاحب) پھر حضرت شیر محمد صاحب بیان فرماتے ہیں کہ میں نے ایک دفعہ خواب دیکھا کہ ایک کنواں دودھ کا بھرا ہوا ہے اور میں نے بعض دوستوں کو کنویں میں سے بالٹیاں بھر بھر کر دودھ پلایا۔لہذا وہ کنواں خشک ہو گیا۔اس پر میں مولوی فتح دین صاحب کے پاس گیا اور اُن کو یہ خواب سنائی۔انہوں نے فرمایا کہ تم مولوی عبدالکریم صاحب کے پاس جاؤ یا مولوی نورالدین صاحب کے پاس جاؤ۔اس پر میں قادیان میں آیا اور مولوی عبد الکریم صاحب کو یہ خواب سنائی تو انہوں نے فرمایا کہ دودھ سے مراد علم ہے۔میں نے کہا کہ میں تو ایک حرف تک پڑھا ہوا نہیں ہوں۔انہوں نے فرمایا کہ اس علم سے مراد وہ علم ہے جو خدا سکھائے۔اور جو بالٹیاں بھر بھر کے پلایا ہے، اس سے یہ مراد ہے کہ کئی دوست آپ سے مسیح موعود کے دعوی کے متعلق فیض اُٹھائیں گے۔اور کنواں خشک ہونے سے مراد یہ ہے کہ وہ لوگ جو تمہیں تبلیغ کرنے