خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 136
خطبات مسرور جلد دہم 136 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء میں نے کہا چھوٹے چھوٹے رسالے پڑھے ہیں۔پھر میں نے حضرت صاحب سے مصافحہ کیا اور جب واپس لوٹا تو مولوی عبدالحکیم صاحب نے کہا کہ تم اپنے ہاتھ را اپنی جلد سے چھلواؤ ، ( چھوٹا رمبہ ہوتا ہے جس سے جوتے بنانے والے یا چمڑے کا کام کرنے والے چمڑے کو چھیلتے ہیں۔تو کہتے ہیں کہ تم نے کیونکہ حضرت مرزا صاحب سے مصافحہ کر لیا ہے۔اس لئے اپنے ہاتھوں کی جو کھال ہے اس کو ادھڑوا ؤ۔تب صاف ہو سکتے ہیں اس کے بغیر صاف نہیں ہو سکتے۔) کیونکہ ان ہاتھوں سے تم نے مرزا صاحب سے مصافحہ کیا ہے۔“ (رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد نمبر 12 صفحہ 13 تا 19 ) نعوذ باللہ۔بہر حال یہ تو بیعت کر کے آگئے۔اسی طرح حضرت حافظ غلام رسول صاحب وزیر آبادی ایک واقعہ لکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ وزیر آباد میں شمن راجگان کو جو وزیر آباد کے شمالی حصے میں موجود ہے ایک بڑا مکان جس میں ریاست راجوری کشمیر کے راجے مسلمان بستے ہیں، ایک شخص مسمی اللہ والے نے راجہ عطاء اللہ خان صاحب مرحوم سفیر کابل کو جا کر کہا کہ یونہی لوگ غلام رسول کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔راجہ صاحب نے فرمایا تو پھر کیا ہے (یہ احمدی ہو گئے تھے تو انہوں نے کہا یونہی پڑ گئے ہیں ) حافظ صاحب کو لاؤ۔یہاں آکر بیان کر دیں کہ ہم مسیح کا رفع جیسا قرآن مجید میں موجود ہے مانتے ہیں اور نزولِ مسیح جیسا حدیثوں میں آیا ہے وہ بھی بیان کر دیں۔چنانچہ شہر میں منادی کی گئی اور مسلمانوں کے تمام فرقے ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو گئے۔میں جانتا تھا جو میں نے کہنا ہے( یہ غلام رسول صاحب وزیر آبادی احمدی ہو چکے تھے ) کہتے ہیں میں جانتا تھا جو میں نے کہنا ہے اور یہ بھی جانتا تھا کہ میری بات کو کسی نے نہیں سمجھنا۔(اشاروں میں بات کروں گا ) ،صرف ایک شخص ہے جس کا نام حکمت سلطان علی تھا، وہ میرے خاندان کا آدمی ہی تھا اگر کوئی سمجھا تو وہ سمجھے گا۔الغرض جب میں پہنچا تو راجہ صاحب نے فرمایا کہ مسمی اللہ والے نے کہا ہے کہ حافظ صاحب مسیح کا رفع اور نزول مانتے ہیں، کیا یہ سچ ہے؟ میں نے کہا بے شک۔لوگ سب خاموش ہو جائیں تو میں بیان کر دیتا ہوں۔چنانچہ جب سب خاموش ہو گئے۔ہزار ہا کے مجمع میں میں اکیلا ہی احمدی تھا۔اُس وقت میں نے کہا سنو لوگو! جب قرآن مجید میں مسیح کا رفع آیا ہے اور جس طرح حدیث شریف میں نزول کا ذکر ( آیا) ہے، میں اس کو برحق مانتا ہوں۔جو اُس کو نہیں مانتا، میں اُس کو بے ایمان جانتا ہوں۔اتنا لفظ کہنا تھا کہ مخلوق میں آفرین، مبارک بادی کے الفاظ بے ساختہ حاضرین کی زبان سے بآواز بلند شروع ہو گئے اور شور پڑ گیا۔میں نے حمد رانچی: چمڑا تراشنے کا اوزار (فرہنگ آصفیہ زیر لفظ راپی، اردو لغت تاریخی اصول پر زیر لفظ راپی)