خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 135 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 135

خطبات مسرور جلد دہم 135 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء فرمایا کہ جو لوگ اپنی کم علمی کی وجہ سے میرے متعلق فیصلہ نہیں کر سکتے وہ اس دعا کو کثرت سے پڑھیں جو اللہ تعالیٰ نے اُن کی پنجوقتہ نمازوں میں بتلائی ہے کہ اھدِنَا القِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِيْنَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِم (الفاتحة: 6)۔چلتے پھرتے ، اُٹھتے بیٹھتے ہر وقت کثرت سے پڑھیں۔زیادہ سے زیادہ چالیس روز تک (اگر نیک نیتی سے پڑھیں گے تو اللہ تعالیٰ اُن پر حق ظاہر کر دے گا۔( کہتے ہیں) میں نے تو اُسی وقت سے شروع کر دیا۔مجھ پر تو ہفتہ گزرنے سے پہلے ہی حق کھل گیا۔میں نے دیکھا کہ حامد کے محلہ کی مسجد میں ہوں۔( حامد محلے کا نام ہے اس کی مسجد میں ہوں۔) وہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے ہیں۔(انہوں نے خواب میں دیکھا۔میں حضرت صاحب کی طرف مصافحہ کرنے کے لئے بڑھنا چاہتا تھا کہ ایک نابینا مولوی نے مجھ کو روکا۔دوسری طرف سے میں نے بڑھنا چاہا تو اُس نے اُدھر سے بھی روک لیا۔پھر تیسری مرتبہ میں نے آگے بڑھ کر مصافحہ کرنا چاہا تو اُس نے مجھ کو پھر روکا۔تب مجھے غصہ آگیا اور میں نے اُسے مارنے کے لئے ہاتھ اُٹھایا۔(خواب بتا رہے ہیں کہ ) حضرت صاحب نے (خواب میں انہیں ) فرمایا کہ نہیں، غصہ نہ کرو۔مارو نہیں۔میں نے عرض کیا کہ حضور! میں تو حضور سے مصافحہ کرنا چاہتا ہوں اور یہ مجھ کو روکتا ہے۔اتنے میں میری آنکھ کھل گئی۔میں نے صبح میر قاسم علی صاحب اور مولوی محبوب احمد اور مستری قادر بخش کے سامنے یہ واقعہ بیان کیا۔میر صاحب نے کہا کہ اسے لکھ دو۔میں نے لکھ دیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے نیچے لکھ دو کہ میں اپنے اس خواب کو حضور کی خدمت میں ذریعہ بیعت قرار دیتا ہوں۔میں نے لکھ دیا۔مولوی محبوب احمد صاحب جو غیر احمدی تھے انہوں نے کہا کہ تم کو اپنے والد کا مزاج بھی معلوم ہے! وہ ایک گھڑی بھر بھی تم کو اپنے گھر نہیں رہنے دیں گے۔میں نے کہا مجھے اس کی کوئی پرواہ نہیں۔خیر حضرت صاحب نے بیعت منظور کر لی اور مجھے لکھا کہ تمہاری بیعت قبول کی جاتی ہے۔اگر تم پر کوئی گالیوں کا پہاڑ کیوں نہ تو ڑ دے، نگاہ اُٹھا کر مت دیکھنا۔( چاہے جتنی مرضی گالیاں پڑیں، تو نے کوئی جواب نہیں دینا۔) اب پھر ( کہتے ہیں ) میں اصل واقعہ کی طرف آتا ہوں۔حضرت صاحب کی تقریر کے بعد حضرت مولانا نورالدین صاحب (حضرت خلیفہ اول) نے تقریر کی۔آپ کی تقریر کے بعد میں نے آپ سے مصافحہ کیا۔مولوی صاحب نے فرمایا کہ میاں تم نے دینیات میں کچھ پڑھا ہے؟ میں نے کہا رمشکوۃ اور جلالین پڑھی ہے۔آپ نے پوچھا کہ فقہ میں کہاں تک پڑھا ہے؟ میں نے عرض کیا کہ قدوری اور ( ایک اور نام صحیح طرح پڑھا نہیں جار ہاوہ پڑھی ہے۔کیونکہ یہ روایات ساری ہاتھ سے لکھی ہوئی ہیں، اس لئے بعض لکھائی پڑھی نہیں جاتی تو ) آپ نے دریافت کیا ( کہ ) منطق میں کہاں تک پڑھا ہے۔حضور