خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 137 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 137

خطبات مسر در جلد دہم 137 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء اُس وقت جلدی مجلس سے نکلنا غنیمت سمجھا اور نکل آیا۔مگر میرے نکل آنے کے بعد اس شخص حکیم سلطان علی نے میرے خیال کے مطابق جیسا کہ میں نے سوچا ہوا تھا راجہ صاحب کو کہہ دیا کہ تم لوگوں نے کچھ نہیں سمجھا، وہ تمہاری آنکھوں میں خاک جھونک کر چلا گیا۔اُس کو پھر بلاؤ۔چنانچہ شمن کے دروازے سے نکلتے ہی کچھ آدمی میری تلاش کے لئے آئے کہ مجھے واپس لے جائیں مگر میں کسی اور راہ سے نکل کر گھر پہنچ گیا۔رات خیر خیر سے گزری تو بعد از نماز فجر راجہ صاحب کا ایک پیغامبر با بوفضل الدین صاحب میرے پاس پہنچا اور کہا کہ راجہ صاحب اور دیگر اہل مجلس کہتے ہیں کہ رفع اور نزول کے فقروں سے ہمیں اطمینان نہیں ہوا۔میں نے کہا کہ پھر کس طرح اطمینان ہو۔اُس نے کہا کہ راجہ صاحب وغیرہ کہتے ہیں کہ جب تک آپ مرزا صاحب کو کافر نہ کہیں ہم نہیں مانتے۔میں نے کہا ئیں کافر کیوں کہوں۔اُس نے کہا کہ مولوی جو کہتے ہیں۔میں نے کہا کہ چونکہ مولوی مرزا صاحب کو کافر کہتے ہیں میں بھی اُن (مولویوں) کو کافر کہتا ہوں ( یعنی دل میں کہا کہ مولویوں کو کافر کہتا ہوں۔اُن کو کافر کہتا ہوں نیت میری یہی تھی کہ مولویوں کو کافر کہتا ہوں ) اب وہ مطمئن ہو کر چلا گیا۔جب اس مجلس میں جا کر کہا کہ لوجی اب تو مرزا صاحب کو بھی اُس نے کافر کہہ دیا ہے۔پھر وہی سلطان علی بولا کہ میاں ! تم دوبارہ آنکھوں میں خاک ڈلوا آئے ہو۔اُس نے تو مولویوں کو کافر کہا ہے۔یہ نہیں۔پھر جاؤ، جاکے کہو کہ یہ لفظ لکھ دے کہ میں مرزا غلام احمد قادیانی (علیہ السلام) کو کافر کہتا ہوں ( نعوذ باللہ )۔پھر وہ آیا، مجھ سے یہ کہلوانا چاہا۔آخر دو دن گزر گئے تھے۔میرا دل بھی کچھ دلیر ہو گیا تو پھر میں نے صاف کہہ دیا کہ بھائی جو کچھ میں نے کہا تھا وہی ٹھیک ہے۔یعنی مرزا صاحب کو جو کافر کہتے ہیں میں اُن کو کافر سمجھتا ہوں۔پس پھر تو وہ مایوس ہو گئے۔الْيَوْمَ يَبِسَ الَّذِينَ كَفَرُوْا مِنْ دِينِكُمْ فَلَا تَخْشَوْهُمْ وَاخْشَوْنِ (المائده : 4) - ( قرآن شریف کی یہ آیت انہوں نے یہاں لکھی ہوئی ہے کہ آج کے دن وہ لوگ جو کافر ہوئے ، تمہارے دین سے مایوس ہو چکے ہیں، پس تم اُن سے نہ ڈرو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُن سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو )۔کہتے ہیں۔بس پھر مقدمات شروع ہو گئے۔(ان کے خلاف مقدمے شروع ہو گئے۔) یہاں تک کہ جن لوگوں پر کبھی بھی جھوٹ بولنے کی امید نہ تھی، انہوں نے مجھے نقصان پہنچانے کے لئے کھلم کھلا عدالتوں میں جھوٹ بولے۔مگر میں نے ان کی کوئی پرواہ نہ کی ، نہ کرتا ہوں۔الغرض میں نے یہ واقعہ جو مرزا صاحب کو کافر کہتے ہیں میں اُن کو کا فرکہتا ہوں ، حضرت صاحب مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام) کے حضور بیان کیا تو حضور کھلکھلا کر ہنسے۔حضور نے فرمایا کہ دیکھو کتمان ایمان کا بھی ایک درجہ ہوتا ہے، ( یعنی ایمان کو چھپانے کے لئے یا فساد سے بچنے کے لئے اختفاء رکھنا