خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 126 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 126

خطبات مسرور جلد دہم 126 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء کی سب کتابیں جو اُس وقت لکھی جا چکی تھیں، اُس کے گھر جا کر دے آئے اور تین مہینے کے لئے اُس سے کہہ دیا کہ آپ ان کا مطالعہ فرمالیں۔تین ماہ کے بعد ہم پھر گئے۔پھر کہنے لگا کہ آپ بچے ہیں۔( یہ دونوں نوجوان تھے۔ان کو کہنے لگا کہ آپ بچے ہیں۔ابھی آپ نہیں سمجھ سکتے۔( کہتے ہیں ) مرزا (ایوب بیگ ) صاحب نے فرمایا کہ بی۔اے پاس تو میں ہوں۔( پڑھا لکھا ہوں، بی۔اے پاس ہوں۔) اگر انگریزی آپ نے پڑھنی ہے تو مجھ سے پڑھ سکتے ہیں۔اگر مجھے بھی عربی پڑھنے کی ضرورت ہوئی تو آپ سے پڑھ لوں گا۔اگر ہم آپ کے خیال میں بچے ہی ہیں تو بچوں پر تو کوئی حساب کتاب ہی نہیں۔کیا آپ ایسا ہمیں لکھ کر دے سکتے ہیں۔( پھر ہم وہاں سے آگئے۔کہتے ہیں ) تیسری دفعہ (ہم ) پھر گئے اور خواجہ کمال الدین کے خسر خلیفہ رجب الدین کو ساتھ لے گئے کیونکہ وہ بوڑھا تھا۔ہم اس خیال پر اُسے ساتھ لے گئے کہ اگر وہ اب کے بھی کہے گا کہ تم نا سمجھ بچے ہو تو ہم خلیفہ صاحب کو پیش کر دیں گے۔اس پر مولوی عبد اللہ نے خلیفہ رجب الدین ( صاحب سے ادھر اُدھر کی) باتیں شروع کیں کہ بہت اچھا ہوا کہ مسلمانوں نے آٹے دال کی دکانیں کھول لی ہیں اور مٹی کے برتنوں کی دکانیں کھول لی ہیں۔( لکھتے ہیں کہ ) یہ لیکھرام کے قتل کے بعد کا واقعہ ہے۔اس پر ایوب بیگ نے مولوی عبداللہ کا ہاتھ پکڑ کر کہا کہ الہی قیامت کے دن میں خدا کے سامنے اسی طرح مولوی عبد اللہ کا ہاتھ پکڑ کر کہوں گا کہ الہی ! تین دفعہ ہم اس کے مکان پر چل کر گئے۔اس نے ہم کو نہیں سمجھایا کہ ہم کیوں کا فر ہیں۔اس پر مولوی عبد اللہ ٹوکی نے کہا کہ مجھے اس کی پرواہ نہیں۔اس پر ایوب بیگ صاحب نے فرمایا کہ اگر آپ خدا تعالی کی بھی پرواہ نہیں کرتے تو میں آپ کو عمر بھر کبھی السلام علیکم نہیں کہوں گا۔پھر وہاں سے ہم اُٹھ کر چلے آئے۔اور پھر آئندہ اس عہد کو مرزا ایوب بیگ نے اپنی زندگی بھر پورا کیا۔اور میں نے مولوی عبداللہ کی زندگی تک پورا کیا۔(رجسٹر روایات صحا بہ غیر مطبوعہ۔جلدنمبر 9 صفحہ 26 28) ی ڈھٹائی جو ان نام نہاد پڑھے لکھے لوگوں کی ہے، جو اُس وقت سے چلی آرہی ہے اور آج تک چلتی چلی جارہی ہے۔کتابیں پڑھتے نہیں یا کچھ حصہ پڑھ لیں گے اور بغیر سیاق وسباق کے یا دیکھا دیکھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اعتراض کرنے شروع کر دیں گے بلکہ عرب ملکوں میں تو اکثر جو واقعات وہاں سے آتے ہیں وہ یہی ہے کہ پاکستان کے مولویوں نے متفقہ طور پر کیونکہ احمدیوں کو کافر کہہ دیا اس لئے اب یہ کافر ہیں ہمیں اور کچھ سوچنے سمجھنے کی ضرورت نہیں۔تو احمدیت کی ابتدا سے یہ سلسلہ چل رہا ہے۔آج تک اُسی طرح چلتا چلا جا رہا ہے۔حضرت منشی قاضی محبوب عالم صاحب کچھ دن سکول نہیں گئے۔یہ بیان کرتے ہیں کہ چوتھے روز