خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 125
خطبات مسرور جلد دہم 125 9 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012 ء بمطابق 2 امان 1391 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح۔مورڈن - لندن تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: آج میں پھر صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کچھ واقعات پیش کروں گا جو ان کے احمدیت قبول کرنے کے بعد جرات اور شجاعت کے متعلق ہیں۔نیز ان سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ کتنی گہرائی میں وہ دین کو سمجھنے ، قرآن کو سمجھنے کی کوشش کرتے تھے اور جب ایک دفعہ سمجھ آ جاتی تھی اور قبول کر لیا تو پھر اس راہ کی ہر تکلیف اور ہر ظلم کو انہوں نے برداشت کیا۔رجسٹر روایات صحابہ سے مختلف عنوانوں کے تحت میں نے واقعات اکٹھے کر وائے ہیں جو مختلف وقتوں میں پیش کرتا رہوں گا۔بہر حال اس وقت چند واقعات ہیں جن سے اُن کی شجاعت اور دلیری کا بھی اظہار ہوتا ہے۔میاں عبدالعزیز صاحب المعروف مغل صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ”میں اور ایوب بیگ، مولوی عبداللہ ٹونکی کے مکان پر گئے اور مولوی عبد اللہ ٹونکی کو مرزا ایوب بیگ صاحب نے پوچھا کہ آپ نے ہم کو اور ہمارے آقا کو یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کافر کیوں کہا ہے؟ مولوی صاحب اور مینٹل کالج میں عربی کے پروفیسر تھے اور فتویٰ کفر میں انہوں نے بھی اپنی مہر ثبت کی تھی۔مرزا صاحب کے سوال پر (یعنی مرزا ایوب بیگ کے سوال پر ) اُس نے کہا کہ چونکہ (فلاں فلاں مولوی ) ، مولوی غلام دستگیر قصوری، مولوی محمد حسین بٹالوی ، مولوی نذیر حسین دہلوی، مولوی عبدالجبار غزنوی نے فتویٰ دیا ہے اس لئے میں نے بھی لکھ دیا۔تو حضرت مرزا ایوب بیگ صاحب نے اس کو کہا بڑی دلیری سے کہ چونکہ یہ تمام جہنم میں جائیں اس لئے آپ بھی ساتھ ( جہنم میں ) جائیں۔اس پر کہنے لگا میں نے غلطی کی ہے۔میں نے مرزا صاحب کی کتابوں کو نہیں دیکھا۔اس پر ہم دونوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام