خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 127 of 872

خطبات مسرور (جلد 10۔ 2012ء) — Page 127

خطبات مسرور جلد دہم 127 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 2 مارچ 2012ء میں سکول گیا تو مجھے ایک شخص مرزا رحمت علی صاحب آف ڈسکہ جو انجمن حمایت اسلام میں ملازم تھے، (انہوں) نے اپنے پاس بلایا اور فرمایا کہ تم چار دن کہاں تھے۔میں نے صاف صاف اُن سے عرض کر دیا کہ میں قادیان گیا تھا۔انہوں نے کہا کہ بیعت کر آئے ؟ میں نے کہا: ہاں۔انہوں نے فرمایا کہ یہاں مت ذکر کرنا۔میں بھی احمدی ہوں اور میں نے بھی بیعت کی ہوئی ہے مگر میں یہاں کسی کو نہیں بتا تا تاکہ لوگ تنگ نہ کریں۔مگر میں نے اُن سے عرض کیا کہ میں تو اس کو پوشیدہ نہیں رکھوں گا چاہے کچھ ہو۔چنانچہ ہمارے استاد مولوی زین العابدین صاحب جو مولوی غلام رسول قلعہ والوں کے بھانجے تھے اور ہمارے قرآن حدیث کے استاد تھے اُن سے میں نے ذکر کیا کہ میں احمدی ہو گیا ہوں۔اس پر انہوں نے بہت برا منایا اور دن بدن میرے ساتھ سختی کرنی شروع کر دی۔حتی کہ وہ فرماتے تھے کہ جو مرزا کو مانے ، سب نبیوں کا منکر ہوتا ہے۔اور اکثر مجھے وہ کہتے تھے کہ تو بہ کرو اور بیعت فسخ کر لو۔مگر میں اُن سے ہمیشہ قرآن شریف کے ذریعے حیات وفات مسیح پر گفتگو کرتا جس کا وہ کچھ جواب نہ دیتے اور مخالفت میں اس قدر بڑھ گئے کہ جب اُن کی گھنٹی آئے ، ( یعنی اُن کا پیریڈ جب آتا تھا) تو وہ مجھے مخاطب کرتے تھے۔او مرزائی ! بینچ پر کھڑا ہو جا۔میں اُن کے حکم کے مطابق بینچ پر کھڑا ہو جاتا اور پوچھتا کہ میرا کیا قصور ہے؟ وہ کہتے کہ یہی کافی قصور ہے کہ تم مرزائی ہو اور کا فر ہو۔کچھ عرصے تک میں نے ان کی اس تکلیف دہی کو برداشت کیا۔پھر مجھے ایک دن خیال آیا کہ میں پرنسپل کو جو نومسلم تھے اور اُن کا نام حاکم علی تھا کیوں نہ جا کر شکایت کروں کہ بعض استاد مجھے اس وجہ سے مارتے ہیں کہ میں احمدی کیوں ہو گیا ہوں۔اس پر انہوں نے ایک سرکلر جاری کر دیا کہ مذہب کے اختلاف کی وجہ سے کوئی مدرس ( کوئی ٹیچر ) کسی لڑکے کو کوئی سزا نہ دے۔چنانچہ اس آرڈر کے آنے پر مولوی زین العابدین صاحب اور اُن کے ہم خیال استاد ڈھیلے پڑ گئے اور مجھ پر جو سختی کرتے تھے اُس میں کمی ہو گئی۔“ یہ واقعات کوئی سو سال پرانے نہیں ہیں۔اُس جہالت کے وقت کے نہیں ہیں بلکہ آج بھی پاکستان میں دہرائے جاتے ہیں۔آج بھی بچوں سے یہی سلوک ہوتا ہے۔گزشتہ دنوں ایک طالب علم کا مجھے خط آیا۔اُس کے بڑے اچھے نمبر تھے۔ان نمبروں کی بنا پر کالج میں داخلہ مل گیا۔فیس جمع کروانے گیا تو وہاں انتظامیہ کے کچھ اور بھی افسر بیٹھے تھے۔انہیں کہیں سے پتہ لگ گیا کہ یہ احمدی ہے تو انہوں نے پوچھا کہ تم احمدی ہو؟ اُس نے کہا کہ ہاں میں احمدی ہوں۔انہوں نے کہا یہ لو پیسے اور تمہارا داخلہ کینسل اور آئندہ یہاں نظر نہ آنا نہیں تو تمہاری ٹانگیں توڑ دیں گے۔(رجسٹر روایات صحابہ۔غیر مطبوعہ۔جلد نمبر 9 صفحہ 127 تا 129)